(۶۶۳۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا ہُدْبَۃُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا ہَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَۃُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیرِینَ : أَنَّہُ کَانَ یَأْخُذُ الْغُسْلَ عَنْ أُمِّ عَطِیَّۃَ یَغْسِلُ بِالسِّدْرِ مَرَّتَیْنِ وَالثَّالِثَۃَ بِالْمَائِ وَالْکَافُورِ۔ وَیُذْکَرُ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرٍو : أَنَّ أَبَاہُ أَوْصَاہُ فَقَالَ : یَا بُنَیَّ إِذَا مِتُّ فَاغْسِلْنِی بِالْمَائِ غَسْلَۃً۔
وَعَنْ عَطَائٍ قَالَ : یَجْزِی فِی غُسْلِ الْمَیِّتِ مَرَّۃٌ۔
وَقَالَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ : لَیْسَ فِیہِ شَیْء ٌ مَؤَقَّتٌ ۔ وَعَنْ إِبْرَاہِیمَ : إِذَا لَمْ یَجِدْ سِدْرًا قَالَ لاَ یَضُرَّہُ۔
وَکَانَ أَصْحَابُ عَبْدِ اللَّہِ یَقُولُونَ : الْمَیِّتُ یُغَسَّلُ وِتْرًا وَیُکَفَّنُ وِتْرًا وَیُجَمَّرُ وِتْرًا۔ [صحیح۔ ابو داؤد]
(٦٦٣٤) محمد بن سیرین بیان کرتے ہیں : انھوں نے غسل کا طریقہ ام عطیہ (رض) سے لیا۔ وہ غسل دیتیں بیری کے ساتھ دو مرتبہ اور تیسری مرتبہ پانی اور کا فور کے ساتھ اور عبداللہ بن عمرو سے بیان کیا گیا کہ اس کے باپ نے وصیت کی کہ اے میرے بیٹے ! جب میں فوت ہو جاؤں تو مجھے ایک مرتبہ پانی سے غسل دینا۔ عطاء کہتے ہیں : مجھ کو ایک مرتبہ غسل دینا کافی ہے۔ عمر بن عبد العزیز کہتے ہیں اس میں کوئی چیز مقرر نہیں اور ابراہیم کہتے ہیں : جب بیری وغیرہ نہ ہو تو کوئی حرج نہیں اور اصحاب عبداللہ کہتے تھے کہ میت کو ایک ایک مرتبہ غسل دیا جائے اور ایک ہی کفن اور ایک ہی مرتبہ استنجاء کروانا ہے۔