(۶۶۸) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَیَّانَ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ زَاطِیَا حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَیْدٍ حَدَّثَنَا مُطَرِّفُ بْنُ مَازِنٍ حَدَّثَنِی إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی الْمُجَالِدِ عَنْ أَبِی الْحَکَمِ الدِّمَشْقِیِّ أَنَّ عُبَادَۃَ بْنَ نُسِیٍّ حَدَّثَہُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ الأَشْعَرِیِّ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ أَنَّہُ قَالَ : لَیْسَ الْوُضُوئُ مِنَ الرُّعَافِ وَالْقَیْئِ وَمَسِّ الذَّکَرِ وَمَا مَسَّتِ النَّارُ بِوَاجِبٍ۔ فَقِیلَ لَہُ : إِنَّ نَاسًا یَقُولُونَ إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : ((تَوَضَّئُوا مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ))۔ فَقَالَ : إِنَّ قَوْمًا سَمِعُوا وَلَمْ یَعُوا ، کُنَّا نُسَمِّی غَسْلَ الْیَدِ وَالْفَمِ وُضُوئً ا وَلَیْسِ بِوَاجِبٍ ، إِنَّمَا أَمَرَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- الْمُؤْمِنِینَ أَنْ یَغْسِلُوا أَیْدِیَہُمْ وَأَفْوَاہَہُمْ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ وَلَیْسَ بِوَاجِبٍ۔ مُطَرِّفُ بْنُ مَازِنٍ تَکَلَّمُوا فِیہِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔
[ضعیف۔ أخرجہ الطبرانی فی الکبیر ۱۳۴]
(٦٦٨) سیدنا معاذ بن جبل (رض) سے روایت ہے کہ نکسیر ، قے ، شرمگاہ کو چھونے اور جس (چیز) کو آگ نے چھوا ہے اس سے وضو کرنا واجب نہیں ہے۔ ان سے کہا گیا کہ صحابہ کرام) (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” جس چیز کو آگ نے چھوا ہو اس سے وضو کرو۔ انھوں نے کہا : لوگوں نے سنا تو ہے لیکن اس کو یاد نہیں رکھا۔ ہم ہاتھوں کو دھونے اور منہ کے دھونے کا نام وضو رکھا کرتے تھے اور یہ واجب نہیں ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مومنوں کو حکم دیا کہ آگ پر پکی چیزوں سے اپنے ہاتھ اور منہ دھوئیں اور یہ واجب نہیں ہے۔