hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 669

.

سنن البيهقي

669
Sunan Al Bayhaqi
(۶۷۰) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ النَّیْسَابُورِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی وَإِبْرَاہِیمُ بْنُ ہَانِئٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ۔ قَالَ وَحَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ النَّیْسَابُورِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَزِیدَ بْنِ طَیْفُورٍ وَإِبْرَاہِیمُ بْنُ مَرْزُوقٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَنْصَارِیُّ۔ قَالَ وَحَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ النَّیْسَابُورِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الأَزْہَرِ وَالْحَسَنُ بْنُ یَحْیَی قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ کُلُّہُمْ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ أَبِیہِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((إِذَا قَائَ أَحَدُکُمْ أَوْ قَلَسَ أَوْ وَجَدَ مَذْیًا وَہُوَ فِی الصَّلاَۃِ فَلْیَنْصَرِفْ فَلْیَتَوَضَّأْ ، وَلْیَرْجِعْ فَلْیَبْنِ عَلَی صَلاَتِہِ مَا لَمْ یَتَکَلَّمْ))۔ قَالَ أَبُو الْحَسَنِ قَالَ لَنَا أَبُو بَکْرٍ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ یَحْیَی یَقُولُ : ہَذَا ہُوَ الصَّحِیحُ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ وَہُوَ مُرْسَلٌ۔ وَأَمَّا حَدِیثُ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنِ ابْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ الَّذِی یَرْوِیہِ إِسْمَاعِیلُ بْنُ عَیَّاشٍ فَلَیْسَ بِشَیْئٍ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ فِی حَدِیثِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ أَبِیہِ : لَیْسَتْ ہَذِہِ الرِّوَایَۃُ بِثَابِتَۃٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ-۔ وَحَمَلُہُ مَعَ مَا رُوِیَ فِیہِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَغَیْرِہِ عَلَی غَسْلِ بَعْضِ الأَعْضَائِ ۔ قَالَ الشَّیْخُ : وَقَدْ رَوَاہُ إِسْمَاعِیلُ بْنُ عَیَّاشٍ مَرَّۃً ہَکَذَا مُرْسَلاً کَمَا رَوَاہُ الْجَمَاعَۃُ وَہُوَ الْمَحْفُوظُ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ وَہُوَ مُرْسَلٌ۔ قَالَ الزَّعْفَرَانِیُّ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الشَّافِعِیُّ : فِیمَا رُوِیَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَابْنِ الْمُسَیَّبِ أَنَّہُمَا کَانَا یَرْعَفَانِ فَیَتَوَضَّآنِ وَیَبْنِیَانِ عَلَی مَا صَلَّیَا ، قَدْ رُوِّینَا عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَابْنِ الْمُسَیَّبِ أَنَّہُمَا لَمْ یَکُونَا یَرَیَانِ فِی الدَّمِ وُضُوئً ا وَإِنَّمَا مَعْنَی وُضُوئِہِمَا عِنْدَنَا غَسْلُ الدَّمِ وَمَا أَصَابَ مِنَ الْجَسَدِ لاَ وُضُوئَ الصَّلاَۃِ۔ وَقَدْ رُوِیَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ : أَنَّہُ غَسَلَ یَدَیْہِ مِنْ طَعَامٍ ثُمَّ مَسَحَ بِبَلَلِ یَدَیْہِ وَجْہَہُ وَقَالَ : ہَذَا وُضُوئُ مَنْ لَمْ یُحْدِثْ۔ وَہَذَا مَعْرُوفٌ مِنْ کَلاَمِ الْعَرَبِ یُسَمَّی وُضُوئً ا لِغَسْلِ بَعْضِ الأَعْضَائِ لاَ لِکَمَالِ وُضُوئِ الصَّلاَۃِ ، ہَذَا مَعْنَی مَا رُوِیَ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ أَبِیہِ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- فِی الْوُضُوئِ مِنَ الرُّعَافِ عِنْدَنَا وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ وَلَیْسَتْ ہَذِہِ الرِّوَایَۃُ بِثَابِتَۃٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ-۔ قَالَ الشَّیْخُ : وَعَلَی ہَذَا یُحْمَلُ مَا رُوِیَ عَنْ ثَوْبَانَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- فِی الْقَیْئِ إِنْ صَحَّتِ الرِّوَایَۃُ فِیہِ۔ [ضعیف أخرجہ الدار قطنی [۱/۱۵۳]
(٦٧٠) ابن جریج اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب کوئی شخص قے ، سبز رنگ کا پانی یا مذی پائے اور وہ نماز میں ہو تو وہ پھر جائے، وضو کرے اور واپس آکر اپنی گزشتہ نماز پر بنیاد رکھے۔ جب تک اس نے بات نہ کی ہو۔
(ب) محمد بن یحییٰ کہتے ہیں کہ ابن جریج سے مرسل ہونا صحیح ہے۔
(ج) ابن جریج کی حدیث جو ابن ابی ملیکہ عن عائشہ کی سند سے ہے اور اس کو اسماعیل بن عیاش روایت کرتے ہیں ثابت نہیں۔
(د) امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : ابن جریج جو اپنے والد سے روایت کرتے ہیں یہ بھی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ثابت نہیں ہے اور انھوں نے سیدنا ابن عمر (رض) وغیرہ سے جو روایت کی ہے اس کو بعض نے اعضاء کے دھونے پر محمول کیا ہے۔
(ر) شیخ کہتے ہیں کہ اس کو اسماعیل بن عیاش مرسل بیان کرتا ہے۔ ایک جماعت ابن جریج سے محفوظ بیان کرتی ہے اور وہ مرسل ہی ہے۔
(ز) امام شافعی (رح) کہتے ہیں کہ ابن عمر (رض) اور ابن مسیب سے جو منقول ہے کہ وہ دونوں ڈکار لیتے ، پھر وضو کرتے۔ یہ اس وقت ہوتا جب وہ نماز پڑھ چکے ہوتے۔ ہم نے جو ابن عمر (رض) اور ابن مسیب سے روایت کیا ہے کہ وہ دونوں خون بہنے میں وضو کے قائل نہیں۔ ہمارے ہاں اس سے مراد خون دھونا ہے اور جو چیز جسم کو لگی ہے نہ کہ نماز والا وضو۔
(س) سیدنا ابن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ انھوں نے کھانا کھانے کے بعد دونوں ہاتھ دھوئے، پھر اپنے ہاتھوں کی تری کو چہرے پر پھیرا اور فرمایا : یہ اس شخص کا وضو جو بےوضو نہیں ہوا۔ عربوں کے کلام میں معروف ہے کہ وہ بعض اعضا دھونے کو وضو کہتے تھے۔ صرف نماز کے لیے کہے جانے والے کو وضو نہیں کہتے تھے۔ ابن جریج سے جو روایت ڈکار کے متعلق وضو کرنے میں ہے، ہمارے ہاں اس سے یہی مراد ہے۔