(۶۷۲۶) وَرَوَی عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ زَحْرٍ عَنْ عَلِیِّ بْنِ یَزِیدَ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ قَالَ : لَمَّا وُضِعَتْ أُمُّ کُلْثُومٍ بِنْتُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فِی الْقَبْرِ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : (({مِنْہَا خَلَقْنَاکُمْ وَفِیہَا نُعِیدُکُمْ وَمِنْہَا نُخْرِجُکُمْ تَارَۃً أُخْرَی} [طٰہ: ۵۵] بِسْمِ اللَّہِ وَفِی سَبِیلِ اللَّہِ وَعَلَی مِلَّۃِ رَسُولِ اللَّہِ))۔ فَلَمَّا بَنَی عَلَیْہَا لَحْدَہَا طَفِقَ یَطْرَحُ إِلَیْہِمُ الْجَبُوبَ وَیَقُولُ : ((سُدُّوا خِلاَلَ اللَّبِنِ)) ثُمَّ قَالَ ((أَمَا إِنَّ ہَذَا لَیْسَ بِشَیْئٍ وَلَکِنَّہُ یُطَیِّبُ نَفْسَ الْحَیِّ))۔
وَہَذَا إِسْنَادٌ ضَعِیفٌ أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَغْدَادِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ السَّہْمِیُّ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَیُّوبَ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ زَحْرٍ فَذَکَرَہُ۔ وَقَدْ رُوِیَ فِی سَدِّ الْفُرْجَۃِ بِالْمَدَرَۃِ وَقَوْلُہُ : ((أَمَا إِنَّہَا لاَ تَضُرُّ وَلاَ تَنْفَعُ وَلَکِنَّہَا تَقَرُّ بِعَیْنِ الْحَیِّ))۔ عَنْ مَکْحُولٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- مُرْسَلاً۔ [منکر۔ أخرجہ احمد]
(٦٧٢٦) ابو امامہ (رض) کہتے ہیں : جب ام کلثوم بنت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس کی قبر میں رکھا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : { مِنْہَا خَلَقْنَاکُمْ وَفِیہَا نُعِیدُکُمْ وَمِنْہَا نُخْرِجُکُمْ تَارَۃً أُخْرَی } [طٰہ : ٥٥] ۔ ” بِسْمِ اللّٰہِ وَفِی سَبِیْلِ اللّٰہِ وَعَلٰی مِلَّۃِ رَسُولِ اللّٰہِ “ اور جب اس پر اس کی لحد بنائی گئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کی طرف کھجور کے گا بےکو پھینک رہے تھے اور کہہ رہے تھے : اینٹوں کے خلال کو بند کرو۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : لیکن یہ تو کچھ بھی نہیں مگر زندہ لوگوں کے دلوں کو اسی سے سکون ہوتا ہے۔
اور یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : خالی جگہ کو مٹی سے بندکرو اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان : لیکن یہ تو نہ نفع دیتا ہے نہ نقصان لیکن اس سے زندوں کی آنکھیں ٹھنڈی ہوجاتی ہیں۔