(۶۷۷۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو زَکَرِیَّا : یَحْیَی بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی قَالاَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا الأَعْمَشُ عَنْ شَقِیقٍ عَنْ خَبَّابٍ قَالَ : ہَاجَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَنَحْنُ نَبْتَغِی وَجْہَ اللَّہِ فَوَقَعَ أَجْرُنَا عَلَی اللَّہِ ، فَمِنَّا مَنْ مَضَی مِنْ قَبْلُ وَلَمْ یَأْکُلْ مِنْ أَجْرِہِ شَیْئًا کَانَ مِنْہُمْ مُصْعَبُ بْنُ عُمَیْرٍ قُتِلَ یَوْمَ أُحُدٍ وَلَمْ یَتْرُکْ إِلاَّ نَمِرَۃً فَکُنَّا إِذَا غَطَّیْنَا رَأْسَہُ بَدَتْ رِجْلاَہُ ، وَإِذَا غَطَّیْنَا رِجْلَیْہِ بَدَا رَأْسَہُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((غَطُّوا رَأْسَہُ ، وَاجْعَلُوا عَلَی رِجْلَیْہِ مِنَ الإِذْخِرِ))۔ وَمِنَّا مَنْ أَیْنَعَتْ لَہُ ثَمَرَتُہُ فَہُوَ یَہْدِبُہَا۔
أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ أَوْجُہٍ عَنِ الأَعْمَشِ۔ [صحیح۔ البخاری]
(٦٧٧٦) حضرت خباب (رض) کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ہجرت کی اور ہم اللہ تعالیٰ کی رضا چاہتے تھے تو ہمارا اجر اللہ تعالیٰ پر ثابت ہوگیا۔ سو ہم میں سے وہ بھی ہیں جو ہم سے پہلے فوت ہوگئے اور اس اجر میں سے کچھ نہ کھایا، ان میں سے مصعب بن عمیر تھے جو غزوہ احد میں شہید ہوئے ۔ انھوں نے کوئی ترکہ نہ چھوڑا سوائے ایک ٹاٹ (کمبل) کے۔ جب ہم اس سے ان کے سر کو ڈھانپتے تو پاؤں کھل جاتے اور جب پاؤں پر ڈالتے تو سر ننگا ہوجاتا۔ تب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کا سر ڈھانپ دو اور اس کے پاؤں پر اذخر گھاس ڈال دو اور ہم میں سے وہ بھی ہیں جن کا پھل تیار ہوچکا اور وہ اسے توڑ رہا ہے۔