(۶۷۷۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیِّ بْنِ زِیَادِ ابْنِ بِنْتِ أَحْمَدَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا جَدِّی أَخْبَرَنَا أَبُو مَرْوَانَ الْعُثْمَانِیُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ : أُتِیَ ابْنُ عَوْفٍ یَعْنِی عَبْدَ الرَّحْمَنِ بِطَعَامٍ فَقَالَ : قُتِلَ مُصْعَبُ بْنُ عُمَیْرٍ وَکَانَ خَیْرًا مِنِّی فَلَمْ یُوجَدْ لَہُ إِلاَّ بُرْدَۃٌ یُکَفَّنُ فِیہَا، وَقُتِلَ حَمْزَۃُ أَوْ رَجُلٌ آخَرُ وَکَانَ خَیْرًا مِنِّی فَلَمْ یُوجَدْ لَہُ إِلاَّ بُرْدَۃٌ یُکَفَّنُ فِیہَا۔ مَا أَظُنُّنَا إِلاَّ قَدْ عُجِّلَتْ لَنَا حَسَنَاتُنَا فِی حَیَاتِنَا الدُّنْیَا۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْمَکِّیِّ عَنْ إِبْرَاہِیمَ۔ [صحیح۔ البخاری]
(٦٧٧٧) ابراہیم بن سعد اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے بیان کرتے ہیں کہ ابن عوف کے پاس کھانا لایا گیا تو انھوں نے کہا : مصعب بن عمیر شہید کردیے گئے اور وہ مجھ سے بہتر تھے مگر ان کیلئے کوئی چادر نہ ملی جس میں انھیں کفن دیا جاتا اور حمزہ (رض) شہید کیے گئے یا کوئی دوسرا۔ وہ بھی مجھ سے بہتر تھے۔ ان کیلئے صرف ایک چادر میسر آئی جس میں انھیں کفن دیا گیا۔ نہیں میں خیال کرتا مگر یہ کہ ہمارے لیے ہماری نعمتیں جلد عطا کردی گئی ہیں دنیا ہی کی زندگی میں۔