(۶۷۹) وَأَمَّا الْحَدِیثُ الَّذِی أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصُّوفِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِیٍّ حَدَّثَنَا ابْنُ صَاعِدٍ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِیٍّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا ہِشَامٌ عَنْ حَفْصَۃَ عَنْ أَبِی الْعَالِیَۃَ : أَنَّ رَجُلاً أَعْمَی جَائَ وَالنَّبِیُّ -ﷺ- فِی الصَّلاَۃِ فَتَرَدَّی فِی بِئْرٍ فَضَحِکَ طَوَائِفُ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ -ﷺ- فَأَمَرَ النَّبِیُّ -ﷺ- مَنْ ضَحِکَ أَنْ یُعِیدَ الْوُضُوئَ وَالصَّلاَۃَ۔
فَہَذَا حَدِیثٌ مُرْسَلٌ۔ وَمَرَاسِیلُ أَبِی الْعَالِیَۃِ لَیْسَتْ بِشَیْئٍ کَانَ لا یُبَالِی عَمَّنْ أَخَذَ حَدِیثَہُ کَذَا قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ سِیرِینَ۔
وَقَدْ رُوِیَ عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِی وَإِبْرَاہِیمَ النَّخَعِیِّ وَالزُّہْرِیِّ مُرْسَلاً۔ [ضعیف۔ أخرجہ الدار قطنی ۱/۱۶۲]
(٦٧٩) سیدنا ابو عالیہ سے روایت ہے کہ ایک نابینا شخص آیا اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حالت نماز میں تھے، وہ کنویں میں گرگیا تو کچھ صحابہ کرام ہنس پڑے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا : جو ہنسا تھا وہ دوبارہ وضو کرے اور نماز دہرائے۔
یہ حدیث مرسل ہے۔ ابو عالیہ کی مراسیل کی کوئی حیثیت نہیں۔