(۶۸۰) أَمَّا حَدِیثُ الْحَسَنِ فَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ الْمُقْرِئُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَاصِمٍ حَدَّثَنَا ہِشَامٌ یَعْنِی ابْنَ حَسَّانَ
عَنِ الْحَسَنِ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- کَانَ یُصَلِّی بِالنَّاسِ ، فَدَخَلَ أَعْمَی فَتَرَدَّی فِی بِئْرٍ کَانَتْ فِی الْمَسْجِدِ فَضَحِکَ طَوَائِفُ مِمَّنْ کَانَ خَلْفَ النَّبِیِّ -ﷺ- فِی صَلاَتِہِمْ ، فَلَمَّا سَلَّمَ النَّبِیُّ -ﷺ- أَمَرَ مَنْ کَانَ ضَحِکَ أَنْ یُعِیدَ وُضُوئَہُ وَیُعِیدَ صَلاَتَہُ۔
وَقَدْ رَوَاہُ أَبُو حَنِیفَۃَ عَنْ مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ مَعْبَدٍ الْجُہَنِیِّ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- مُرْسَلاً۔
وَخَالَفَہُ غَیْلاَنُ بْنُ جَرِیرٍ فَرَوَاہُ عَنْ مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیرِینَ عَنْ مَعْبَدٍ۔
وَمَعْبَدٌ ہَذَا لاَ صُحْبَۃَ لَہُ وَہُوَ أَوَّلُ مَنْ تَکَلَّمَ فِی الْقَدَرِ بِالْبَصْرَۃِ۔
وَرَوَاہُ ہُشَیْمٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنِ ابْنِ سِیرِینَ مُرْسَلاً۔ [ضعیف۔ أخرجہ الدار قطنی ۱/۱۶۵]
(٦٨٠) حسن سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے، ایک نابینا شخص آیا تو مسجد کے کنویں میں گرپڑا۔ (یہ دیکھ کر) بعض لوگ ہنس پڑے۔ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سلام پھیرا تو حکم دیا کہ وہ دوبارہ وضو کریں اور نماز لوٹائیں۔
(ب) معبد جہنی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مرسل نقل فرماتے ہیں۔ معبد صحابی نہیں ہے بلکہ پہلا شخص تھا جس نے بصرہ میں تقدیر پر بحث کی۔