(۶۷۹۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ رَوْحٍ الْمَدَائِنِیُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ قَالَ وَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقَاضِی بِمَرْوَ حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ أَبِی أُسَامَۃَ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عِبَادَۃَ قَالاَ حَدَّثَنَا أُسَامَۃَ بْنُ زَیْدٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ أَنَسِ قَالَ : لَمَّا کَانَ یَوْمُ أُحُدٍ مَرَّ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بِحَمْزَۃَ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَقَدْ جُدِعَ ، وَمُثِّلَ بِہِ فَقَالَ : ((لَوْلاَ أَنْ تَجِدَ صَفِیَّۃُ تَرَکَتُہُ حَتَّی یَحْشُرَہُ اللَّہُ مِنْ بُطُونِ الطَّیْرِ وَالسِّبَاعِ))۔ فَکَفَّنَہُ فِی نَمِرَۃٍ إِذَا خُمِّرَ رَأْسُہُ بَدَتْ رِجْلاَہُ ، وَإِذَا خُمِّرَ رِجْلاَہُ بَدَا رَأْسُہُ فَخَمَّرَ رَأْسَہُ ، وَلَمْ یُصَلِّ عَلَی أُحُدٍ مِنَ الشُّہَدَائِ غَیْرِہِ ، ثُمَّ قَالَ : أَنَا شَاہِدٌ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ ۔ وَکَانَ یَجْمَعُ الثَّلاَثَۃَ وَالاِثْنَیْنِ فِی قَبْرٍ وَاحِدٍ وَیَسْأَلُ أَیُّہُمْ أَکْثَرُ قُرْآنًا فَیُقَدِّمُہُ فِی اللَّحْدِ ، وَکَفَّنَ الرَّجْلَیْنِ وَالثَّلاَثَۃَ فِی الثَّوْبِ الْوَاحِدِ۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ قَالَ : ہَذِہِ اللَّفْظَۃُ وَلَمْ یُصَلِّ عَلَی أَحَدٍ مِنَ الشُّہَدَائِ غَیْرِہِ لَیْسَتْ مَحْفُوظَۃً۔
قَالَ أَبُو عِیسَی التِّرْمِذِیُّ فِی کِتَابِ الْعِلَلِ : سَأَلْتُ مُحَمَّدًا یَعْنِی الْبُخَارِیَّ عَنْ ہَذَا الْحَدِیثِ یَعْنِی إِسْنَادَہِ فَقَالَ : حَدِیثُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ ہُوَ حَدِیثٌ حَسَنٌ۔ وَحَدِیثُ أُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ ہُوَ غَیْرُ مَحْفُوظٍ غَلِطَ فِیہِ أُسَامَۃُ بْنُ زَیْدٍ۔
قَالَ الشَّیْخُ : وَقَدْ قِیلَ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ کَعْبٍ عَنْ أَبِیہِ۔ [حسن۔ ابو داؤد]
(٦٧٩٨) حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ جب غزوہ احد ہوا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حمزہ بن عبد المطلب کے پاس سے گزرے۔ انھیں کاٹا گیا اور مثلہ کیا گیا تھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر پھوپھی صفیہ (رض) نے نہ دیکھا ہوتا تو میں اسے یوں ہی چھوڑ دیتا حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ اسے پرندوں اور درندوں کے پیٹوں سے اکٹھا کرتا۔ پھر انھیں کفن دیا گیا ایک ٹاٹ میں جس سے سر ڈھانپا جاتا تو پاؤں ظاہر ہوجاتے اور جب پاؤں ڈھانپے جاتے تو سر ننگا ہوجاتا تو پھر ان کا سر ڈھانپ دیا گیا اور تمام شہداء میں سے کسی کی نماز جنازہ نہ پڑھی گئی۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں آج کے دن تم پر گواہ ہوں اور آپ ایک ہی قبر میں دو دو تین تین کو جمع کر رہے تھے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پوچھتے کہ قرآن زیادہ جاننے والا کون ہے ، سو اسے لحد میں پہلے اتارا جاتا اور دو تین آدمیوں کو ایک ہی کفن میں جمع کیا گیا۔
علی بن عمر حافظ کہتے ہیں : بات ایسے ہی ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کسی کا جنازہ (شہداء میں سے) نہیں پڑھا۔ ابو عیسیٰ کہتے ہیں : میں نے اس کے بارے میں امام بخاری سے پوچھا تو انھوں نے کہا : جابر بن عبداللہ کی حدیث حسن ہے اور اسامہ بن زید کی حدیث غیر محفوظ ہے۔