(۶۸۳۰) وَرُوِّینَا فِی حَدِیثِ عَبْدِاللَّہِ بْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ أَبِیہِ فِی قِصَّۃِ الْغَامِدِیَّۃِ الَّتِی رُجِمَتْ فِی الزِّنَا قَالَ النَّبِیُّ -ﷺ-: ((فَوَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَۃً لَوْ تَابَہَا صَاحِبُ مَکْسٍ لَغُفِرَ لَہُ))۔ ثُمَّ أَمَرَ بِہَا فَصَلَّی عَلَیْہَا وَدُفِنَتْ۔
أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو النَّضْرِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا خَلاَّدُ بْنُ یَحْیَی حَدَّثَنَا بَشِیرُ بْنُ مُہَاجِرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ أَبِیہِ فَذَکَرَ مَعْنَاہُ
أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ بَشِیرٍ۔ [صحیح۔ مسلم]
(٦٨٣٠) عبداللہ بن بریدہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں۔ اس غامدیہ کے قصے میں جسے زنا کی حد میں رجم کیا گیا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس عورت نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر اس توبہ کونا جائز ٹیکس لینے والوں پر تقسیم کیا جاتا تو انھیں بھی معاف کردیا جاتا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا اس کا جنازہ پڑھا گیا اور دفن کردیا گیا۔