قَالَ اللَّہُ تَعَالَی {وَإِذِ ابْتَلَی إِبْرَاہِیْمَ رَبُّہُ بِکَلِمَاتٍ فَأَتَمَّہُنَّ} الآیَۃَ۔ [البقرۃ: ۱۲۴]
(۶۸۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا الْعَنْبَرِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلاَمِ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِیہِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِی قَوْلِہِ عَزَّ وَجَلَّ {وَإِذِ ابْتَلَی إِبْرَاہِیمَ رَبُّہُ بِکَلِمَاتٍ} قَالَ : ابْتَلاَہُ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ بِالطَّہَارِۃِ خَمْسٌ فِی الرَّأْسِ ، وَخَمْسٌ فِی الْجَسَدِ ، فِی الرَّأْسِ: قَصُّ الشَّارِبِ وَالْمَضْمَضَۃُ وَالاِسْتِنْشَاقُ وَالسِّوَاکُ وَفَرْقُ الرَّأْسِ ، وَفِی الْجَسَدِ : تَقْلِیمُ الأَظْفَارِ وَحَلْقُ الْعَانَۃِ وَالْخِتَانُ وَنَتْفُ الإِبْطِ وَغَسْلُ مَکَانِ الْغَائِطِ وَالْبَوْلِ بِالْمَائِ ۔
وَقَدْ مَضَی فِی ہَذَا الْکِتَابِ حَدِیثُ ابْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ عَائِشَۃَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- : عَشْرٌ مِنَ الْفِطْرَۃِ ۔ فَذَکَرَہُنَّ إِلاَّ أَنَّہُ ذَکَرَ إِعْفَائَ اللِّحْیَۃِ وَغَسْلَ الْبَرَاجِمِ وَلَمْ یَذْکُرِ الْخِتَانَ وَفَرْقَ الرَّأْسِ۔
[صحیح۔ أخرجہ الحاکم ۲/۲۹۳]
(٦٨٥) (الف) سیدنا ابن عباس (رض) اللہ کے ارشاد { وَإِذِ ابْتَلَی إِبْرَاہِیمَ رَبُّہُ بِکَلِمَاتٍ } کے متعلق فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے طہارت کے ساتھ آزمایا ہے : پانچ کا تعلق سر سے ہے اور پانچ کا جسم سے ہے۔ سر والی یہ ہیں : ” مونچھیں کاٹنا ‘ کلی کرنا ‘ ناک میں پانی چڑھانا ‘ مسواک کرنا ‘ مانگ نکالنا اور جسم والی یہ ہیں : ناخن کاٹنا ‘ زیر ناف بال مونڈنا ‘ ختنہ کرنا ‘ بغلوں کے بال اکھیڑنا ‘ قضائے حاجت اور پیشاب کی جگہ کو پانی سے دھونا۔
(ب) سیدہ عائشہ (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتی ہیں : ” دس چیزیں فطرت میں سے ہیں، پھر ان کا ذکر کیا اور داڑھی بڑھانے اور پوروں کو دھونے کا ذکر بھی کیا، مگر ختنہ کرنے اور مانگ نکالنے کا ذکر نہیں کیا۔