(۶۸۴۵) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ یُوسُفَ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ الأَعْرَابِیِّ أَخْبَرَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ أَخْبَرَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِی ذِئْبٍ عَنِ الْمَقْبُرِیِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مِہْرَانَ : أَنَّ أَبَا ہُرَیْرَۃَ أَوْصَی عِنْدَ مَوْتِہِ أَنْ لاَ تَضْرِبُوا عَلَی قَبْرِی فُسْطَاطًا ، وَلاَ تَتْبَعُونِی بِمِجْمَرٍ ، وَأَسْرِعُوا بِی أَسْرِعُوا بِی فَإِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : ((إِذَا وُضِعَ الْمُؤْمِنُ عَلَی سَرِیرِہِ یَقُولُ قَدِّمُونِی قَدِّمُونِی ، وَإِذَا وُضِعَ الْکَافِرُ عَلَی سَرِیرِہِ قَالَ یَا وَیْلَتَاہُ أَیْنَ تَذْہَبُونَ بِی))۔ [حسن۔ أخرجہ احمد]
(٦٨٤٥) عبد الرحمن بن مہران بیان کرتے ہیں کہ ابوہریرہ (رض) نے اپنی موت کے وقت وصیت کی کہ میری قبر پر خیمہ نصب نہ کرنا اور نہ ہی آگ لے کر پیچھے چلنا اور مجھے جلدی لے جانا۔ بیشک میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب مومن اپنی چارپائی پر رکھا جاتا ہے تو وہ کہتا ہے : مجھے آگے لے چلو آگے لے چلو اور جب کافر کو چارپائی پر رکھا جاتا ہے تو وہ کہتا ہے : ہائے افسوس ! تم مجھے کہاں لے جا رہے ہو۔