(۶۸۵۱) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا زَائِدَۃُ عَنْ لَیْثٍ عَنْ أَبِی بُرْدَۃَ عَنْ أَبِی مُوسَی : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- مُرَّ عَلَیْہِ بِجَنَازَۃٍ وَہِی یُسْرِعُ بِہَا وَہِیَ تُمْخَضُ مَخْضَ الزِّقِّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((عَلَیْکُمْ بِالْقَصْدِ فِی الْمَشْیِ بِجَنَائِزِکُمْ))۔
وَقَدْ رُوِّینَا عَنْ أَبِی مُوسَی أَنَّہُ أَوْصَی فَقَالَ : إِذَا انْطَلَقْتُمْ بِجَنَازَتِی فَأَسْرِعُوا بِیَ الْمَشْیَ۔
وَفِی ذَلِکَ دِلاَلَۃٌ عَلَی أَنَّ الْمُرَادَ بِمَا رُوِّینَا ہَا ہُنَا إِنْ ثَبَتَ کَرَاہِیَۃُ شِدَّۃِ الإِسْرَاعِ۔ [منکر۔ أخرجہ الطیالسی]
(٦٨٥١) ابو موسیٰ (رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس سے ایک جنازے گزرا اور وہ اسے حرکت دے رہے تھے جیسے مشکیزہ کو ہلایا جاتا ہے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میانہ روی کو لازم پکڑو اپنے جنازوں کے ساتھ چلنے میں۔
ابو موسیٰ نے وصیت کی کہ جب تم میرے جنازے کے ساتھ چلو تو چلنے میں تیزی اختیار کرنا ۔ اس میں یہ دلیل ہے کہ اس سے مراد شدت سے نہ چلنا ہے۔