(۶۹۰۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ وَأَبُو سَعِیدٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِی الْحُسَیْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عَبَّاسِ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : لَمَّا صُلِّیَ عَلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- أُدْخِلَ الرِّجَالُ فَصَلَّوْا عَلَیْہِ بِغَیْرِ إِمَامٍ أَرْسَالاً حَتَّی فَرَغُوا ، ثُمَّ أُدْخِلَ النِّسَائُ فَصَلَّیْنَ عَلَیْہِ ، ثُمَّ أُدْخِلَ الصِّبْیَانُ فَصَلَّوْا عَلَیْہِ ، ثُمَّ أُدْخِلَ الْعَبِیدُ فَصَلَّوْا عَلَیْہِ أَرْسَالاً لَمْ یَؤُمَّہُمْ عَلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- أَحَدٌ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَذَلِکَ لِعَظَمِ أَمْرِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- بِأَبِی ہُوَ وَأُمِّی وَتَنَافُسِہِمْ فِی أَنْ لاَ یَتَوَّلَی الإِمَامَۃَ فِی الصَّلاَۃ عَلَیْہِ وَاحِدٌ وَصَلَّوْا عَلَیْہِ مَرَّۃً بَعْدَ مَرَّۃٍ
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ قَالَ قَالَ الشَّافِعِیُّ فَذَکَرَہُ۔ [ضعیف]
(٦٩٠٧) عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں : جب رسول اللہ کے لیے دعا کی گئی تو لوگ تھوڑے تھوڑے داخل ہوتے اور بغیر امام کے اکیلے دعا کرتے ، یہاں تک کہ وہ فارغ ہوگئے۔ پھر عورتیں داخل ہوئیں اور انھوں نے بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود بھیجا، پھر بچے داخل ہوئے اور انھوں نے درود پڑھا، پھر غلام داخل ہوئے اور انھوں نے بھی درود پڑھا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے جنازے کی کسی نے امامت نہ کروائی۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : یہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عظمت کی بات تھی میرے ماں والد آپ پر فدا ہوں اور اس وجہ سے کہ لوگ اس بات میں نہ پڑیں کہ فلاں نے ایک مرتبہ نماز جنازہ پڑھی، بلکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر بار بار درود پڑھا گیا۔