(۶۹۰۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ ہَانِئٍ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مُہَاجِرٍ حَدَّثَنَا أَبُو الطَاہِرٍ وَہَارُونُ بْنُ سَعِیدٍ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ عُمَارَۃَ بْنِ غَزِیَّۃَ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی طَلْحَۃَ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ أَبَا طَلْحَۃَ دَعَا رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- إِلَی عُمَیْرِ بْنِ أَبِی طَلْحَۃَ حِینَ تُوُفِّیَ فَأَتَاہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَصَلَّی عَلَیْہِ فِی مَنْزِلِہِمْ فَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَکَانَ أَبُو طَلْحَۃَ وَرَائَ ہُ وَأُمُّ سُلَیْمٍ وَرَائَ أَبِی طَلْحَۃَ وَلَمْ یَکُنْ مَعَہُمْ غَیْرُہُمُ۔
[صحیح۔ أخرجہ الحاکم]
(٦٩٠٨) اسحاق بن عبداللہ اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ ابو طلحہ (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو عمیر بن طلحہ کے لیے بلایاجب وہ فوت ہوگئے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آئے اور ان کے گھر ہی میں نمازِ جنازہ پڑھائی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آگے کھڑے ہوئے اور ابو طلحہ (رض) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے تھے اور ام سلیم ابو طلحہ کے پیچھے تھیں اور ان کے ساتھ کوئی اور نہیں تھا۔