(۶۹۴۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ أَخْبَرَنَا دَاوُدُ - یَعْنِی ابْنَ أَبِی ہِنْدٍ - عَنْ عَامِرٍ عَنْ عَلْقَمَۃَ قَالَ قُلْتُ لاِبْنِ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : إِنَّ أَصْحَابَ مُعَاذٍ قَدِمُوا مِنَ الشَّامِ فَکَبَّرُوا عَلَی مَیِّتٍ لَہُمْ خَمْسًا۔ فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ : لَیْسَ عَلَی الْمَیِّتِ مِنَ التَّکْبِیرِ وَقْتٌ کَبِّرْ مَا کَبَّرَ الإِمَامُ فَإِذَا انْصَرَفَ الإِمَامُ فَانْصَرِفْ۔ [حسن]
(٦٩٤٥) ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں : معاذ کے ساتھی شام سے آئے ، انھوں نے میت پر پانچ تکبیرات کہیں تو ابن مسعود (رض) نے فرمایا : میت پر تکبیرات کی اہمیت نہیں، لیکن امام جتنی تکبیرات کہے گا تم بھی اسی قدر تکبیرات کہو گے۔ جب امام پھرے تو تم بھی پھر جاؤ۔