(۷۱۲۷) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحُسَیْنِ حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِیُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : مَرَّ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بِامْرَأَۃٍ عِنْدَ قَبْرٍ وَہِیَ تَبْکِی فقَالَ لَہَا : ((اتَّقِی اللَّہَ وَاصْبِرِی))۔ فَقَالَتْ : إِلَیْکَ عَنِّی فَإِنَّکَ لَمْ تُصَبْ بِمُصِیبَتِی - قَالَ -وَلَمْ تَعْرِفْہُ فَقِیلَ لَہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَأَخَذَہَا مِثْلُ الْمَوْتِ فَأَتَتْ بَابَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَلَمْ تَجِدْ عِنْدَہُ بَوَّابِینَ فَقَالَتْ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنِّی لَمْ أَعْرِفْکَ فقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((إِنَّ الصَّبْرَ عِنْدَ أَوَّلِ الصَّدْمَۃِ))۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ آدَمَ بْنِ أَبِی إِیَاسٍ ، وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُہٍ عَنْ شُعْبَۃَ ۔ وَقَالَ بَعْضُہُمْ فِی الْحَدِیثِ : ((الصَّبْرُ عِنْدَ الصَّدْمَۃِ الأُولَی))۔ [صحیح۔ البخاری]
(٧١٢٧) انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک عورت کے پاس سے گزرے جو قبر کے پاس رو رہی تھی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے کہا : اللہ سے ڈر اور صبر کر، تو اس نے کہا : آپ مجھے میرے حال پر چھوڑدیں، کیونکہ میرے جیسی تکلیف آپ کو نہیں پہنچی ، وہ آپ کو نہیں پہچانتی تھی۔ جب اسے بتایا گیا کہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تھے تو اس پر موت جیسی کیفیت طاری ہوگئی اور وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دروازے پر آئی تو اس نے وہاں کوئی دربان نہ پایا اس نے کہا : اے اللہ کے رسول ! میں نے آپ کو پہچانا نہیں تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : صبر تو وہ ہے جو صدمے کے آتے ہی کیا جائے۔
امام بخاری نے اپنی صحیح میں آدم بن ابی ایاس سے نقل کیا ہے اور بعض نے حدیث میں بیان کیا کہ (الصَّبْرُ عِنْدَ الصَّدْمَۃِ الأُولَی) ۔