(۷۱۵۲) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الْمُعَلَّی الأَنْصَارِیِّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ أَنَّہُ قَالَ : اشْتَکَی سَعْدُ بْنُ عُبَادَۃَ شَکْوًی لَہُ فَأَتَاہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَعُودُہُ مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَسَعْدِ بْنِ أَبِی وَقَّاصٍ وَعَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ فَلَمَّا دَخَلَ عَلَیْہِ وَجَدَہُ فِی غَشِیَّۃٍ فَقَالَ : أَقَدْ قَضَی ۔ فَقَالُوا : لاَ یَا رَسُولَ اللَّہِ فَبَکَی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَلَمَّا رَأَی الْقَوْمُ بُکَائَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- بَکَوْا فَقَالَ : ((أَلاَ تَسْمَعُونَ إِنَّ اللَّہَ لاَ یُعَذِّبُ بِدَمْعِ الْعَیْنِ وَلاَ بِحُزْنِ الْقَلْبِ وَلَکِنْ یُعَذِّبُ بِہَذَا وَأَشَارَ إِلَی لِسَانِہِ أَوْ یَرْحَمُ))۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَصْبَغَ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ ، وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ عَمْرِو بْنِ سَوَّادٍ۔
[صحیح۔ أخرجہ البخاری]
(٧١٥٢) عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ سعد بن عبادہ (رض) بیمار ہوگئے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تیمار داری کے لیے آئے اور عبد الرحمن بن عوف آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے اور سعد بن ابی وقاص اور عبداللہ بن مسعود (رض) بھی۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے پاس آئے تو ان پر غشی طاری تھی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا : کیا فوت ہوچکے ہیں ؟ تو کہا گیا : نہیں تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رو دیے۔ جب قوم نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے رو نے کو دیکھا تو وہ بھی رو دیے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تم سنتے نہیں کہ اللہ تعالیٰ آنکھ کے آنسوں سے عذاب نہیں کرتے اور نہ ہی دل کے غمناک ہونے سے، بلکہ عذاب تو اس سے ہوتا ہے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی زبان کی طرف اشارہ کیا یا رحم کیا جاتا ہے۔