(۷۱۵۹) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَحْیَی بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّکَّرِیُّ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ وَہْبِ بْنِ کَیْسَانَ : أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَمْرٍو أَخْبَرَہُ : أَنَّ سَلَمَۃَ بْنَ الأَزْرَقِ کَانَ جَالِسًا عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ بِالسُّوقِ فَمُرَّ بِجَنَازَۃٍ یُبْکَی عَلَیْہَا - قَالَ - فَعَابَ ذَلِکَ ابْنُ عُمَرَ وَانْتَہَرَہُنَّ قَالَ فَقَالَ سَلَمَۃُ : لاَ تَقُلْ ذَلِکَ یَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَأَشْہَدُ عَلَی أَبِی ہُرَیْرَۃَ لَسَمِعْتُہُ یَقُولُ : مُرَّ عَلَی النَّبِیِّ -ﷺ- بِجَنَازَۃٍ وَأَنَا مَعَہُ وَمَعَہُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَنِسَائٌ یَبْکِینَ عَلَیْہَا فَزَبَرَہُنَّ عُمَرُ وَانْتَہَرَہُنَّ فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ -ﷺ- : ((دَعْہُنَّ یَا عُمَرُ فَإِنَّ الْعَیْنَ دَامِعَۃٌ ، وَالنَّفْسَ مُصَابَۃٌ ، وَالْعَہْدَ حَدِیثٌ))۔ قَالُوا : أَنْتَ سَمِعْتَہُ یَقُولُ ہَذَا؟ قَالَ : نَعَمْ قَالَ ابْنُ عُمَرَ : فَاللَّہُ وَرَسُولُہُ أَعْلَمُ مَرَّتَیْنِ۔ [ضعیف۔ أخرجہ ابن حبان]
(٧١٥٩) سلمہ بن ازرق ابن عمر (رض) کے پاس بازار میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک جنازہ گزرا، جس پر رویا جا رہا تھا۔ ابن عمر (رض) نے اسے ناپسند کیا اور انھیں ڈانٹا، سلمہ نے کہا : ایسے نہ کہو اے ابو عبد الرحمن ! میں ابو ہریرہ (رض) کے پاس گیا تو انھیں کہتے ہوئے سنا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس سے جنازہ گزرا اور میں آپ کے ساتھ تھا اور عمر بن خطاب (رض) بھی تھے اور عورتیں اس پر رو رہی تھیں تو عمر (رض) نے انھیں ڈانٹا اور منع کیا تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے عمر ! انھیں چھوڑ دے ، آنکھ آنسو بہانے والی ہے اور نفس تکلیف زدہ ہے اور زخم تازہ ہے۔ انھوں نے کہا : تو نے یہ کہتے ہوئے سنا ہے تو انھوں نے کہا : یا تو عبداللہ بن عمر (رض) نے کہا : اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں یہ بات دو مرتبہ کہی۔