(۷۱۶۰) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ فَارِسٍ الأَصْبَہَانِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ : یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّیَالِسِیُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ عَلَیِّ بْنِ زَیْدٍ عَنْ یُوسُفَ بْنِ مِہْرَانَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : بَکَتِ النِّسَائُ عَلَی رُقَیَّۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا فَجَعَلَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَنْہَاہُنَّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((مَہْ یَا عُمَرُ))۔ قَالَ ثُمَّ قَالَ : ((إِیَّاکُنَّ وَنَعِیقَ الشَّیْطَانِ فَإِنَّہُ مَہْمَا یَکُنْ مِنَ الْعَیْنِ وَالْقَلْبِ فَمِنَ الرَّحْمَۃِ ، وَمَا یَکُونُ مِنَ اللِّسَانِ وَالْیَدِ فَمِنَ الشَّیْطَانِ)) قَالَ - وَجَعَلَتْ فَاطِمَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا تَبْکِی عَلَی شَفِیرِ قَبْرِ رُقْیَۃَ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَمْسَحُ الدُّمُوعَ عَنْ وَجْہِہَا بِالْیَدِ أَوْ قَالَ بِالثَّوْبِ۔
وَہَذَا وَإِنْ کَانَ غَیْرَ قَوِیٍّ فَقَوْلُہُ -ﷺ- فِی الْحَدِیثِ الثَّابِتِ عَنْہُ : ((إِنَّ اللَّہَ لاَ یُعَذِّبُ بِدَمْعِ الْعَیْنِ وَلاَ بِحُزْنِ الْقَلْبِ وَلَکِنْ یُعَذِّبُ بِہَذَا وَأَشَارَ إِلَی لِسَانِہِ أَوْ یَرْحَمُ))۔
یَدُلُّ عَلَی مَعْنَاہُ وَیَشْہَدُ لَہُ بِالصِّحَّۃِ وَبِاللَّہِ التَّوْفِیقُ۔ [ضعیف۔ أحمد]
(٧١٦٠) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ رقیہ (رض) پر عورتیں روئیں تو عمر (رض) نے انھیں منع کیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے عمر ! چھوڑ دے ۔ پھر فرمایا : تم شیطان کی چیخ سے بچو ، ویسے اگر وہ آنکھ اور دل سے ہو تو رحمت ہے اور جو زبان اور ہاتھ سے ہو تو وہ شیطان سے ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ فاطمہ (رض) رقیہ (رض) کی قبر کے کنارے رو رہی تھیں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے ہاتھ سے ان کے چہرے سے آنسو پونچھ رہے تھے یا فرمایا : کپڑے سے۔
اگر یہ قوی نہیں تو جو ثابت کی حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ آنکھوں کے آنسوؤں اور دل کے غم سے عذاب نہیں دیتا بلکہ عذاب تو اس کی وجہ سے ہوتا ہے اور اپنی زبان کی طرف اشارہ کیا یا وہ رحم فرما دے۔