(۷۱۷۳) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلاَلٍ الْبَزَّازُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی بَکْرٍ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ لَمَّا مَاتَ رَافِعُ بْنُ خَدِیجٍ قَالَ لَہُمْ : لاَ تَبْکُوا عَلَیْہِ فَإِنَّ بَکَّائَ الْحَیِّ عَذَابٌ لِلْمَیِّتِ وَقَالَ عَنْ عَمْرَۃَ فَسَأَلَتُ عَائِشَۃَ عَنْ ذَلِکَ فَقَالَتْ : یَرْحَمُہُ اللَّہِ إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- لِیَہُودِیَّۃِ وَأَہْلُہَا یَبْکُونَ : ((إِنَّہُمْ لَیَبْکُونَ عَلَیْہَا وَإِنَّہَا لَتُعَذَّبُ فِی قَبْرِہَا))۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]
(٧١٧٣) عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ جب رافع بن خدیج فوت ہوئے تو ان سے کہا : تم نہ روؤ کیونکہ زندوں کے رونے کی وجہ سے میت کے لیے عذاب ہوتا ہے۔ عمرہ کہتے ہیں : میں نے سیدہ سے اس بارے میں پوچھا تو انھوں نے کہا : اللہ اس پر رحم کرے۔ بیشک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہودیہ اور اس کے اہل سے کہا جو رو رہے تھے کہ وہ اس پر رو رہے ہیں اور وہ قبر میں عذاب دی جارہی ہے۔