hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 7187

.

سنن البيهقي

7187
Sunan Al Bayhaqi
(۷۱۸۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ أَخْبَرَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِی الْفُرَاتِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ أَبِی الأَسْوَدِ الدِّیلِیِّ قَالَ : خَرَجْتُ إِلَی الْمَدِینَۃِ وَقَدْ وَقَعَ بِہَا مَرَضٌ فَجَلَسْتُ إِلَی عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَمَرَّتْ بِہِمْ جِنَازَۃٌ فَأُثْنِیَ عَلَی صَاحِبِہَا خَیْرًا فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : وَجَبَتْ ، ثُمَّ مُرَّ بِأُخْرَی فَأُثْنِیَ عَلَی صَاحِبِہَا خَیْرًا فَقَالَ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : وَجَبَتْ ، ثُمَّ مُرَّ بِالثَّالِثِ فَأُثْنِیَ عَلَی صَاحِبِہَا شَرًّا فَقَالَ عُمَرُ : وَجَبَتْ فَقَالَ أَبُو الأَسْوَدِ فَقُلْتُ : مَا وَجَبَتْ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ قَالَ : قُلْتُ کَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((أَیُّمَا مُسْلِمٍ شَہِدَ لَہُ أَرْبَعَۃٌ بِخَیْرٍ أَدْخَلَہُ اللَّہِ الْجَنَّۃَ))۔ قَالَ قُلْنَا : وَثَلاَثَۃٌ قَالَ : ((وَثَلاَثَۃٌ))۔ قَالَ قُلْنَا : ((وَاثْنَانِ)) قَالَ : وَاثْنَانِ ۔ قَالَ : لَمْ نَسْأَلْہُ عَنِ الْوَاحِدِ۔ أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ فَقَالَ قَالَ عَفَّانُ فَذَکَرَہُ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]
(٧١٨٦) ابو الاسود دیلمی فرماتے ہیں کہ میں مدینہ کی طرف نکلا اور وہاں بیماری تھی تو میں عمر (رض) کے پاس بیٹھ گیا ، تو ان کے پاس سے ایک جنازہ گزرا۔ اس کی اچھی تعریف کی گئی تو عمر (رض) نے کہا : اس پر واجب ہوگئی ۔ پھر دوسرا جنازہ گزرا اس کی اچھائی بیان کی گئی تو عمر (رض) نے کہا : اس پر واجب ہوگئی۔ پھر تیسرا جنازہ گزرا تو اس کی برائی بیان کی گئی تو عمر (رض) نے کہا : واجب ہوگئی ۔ ابو الاسود کہتے ہیں : میں نے کہا : اے امیر المؤمنین ! کیا واجب ہوگئی ؟ انھوں نے کہا میں نے بھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ایسے ہی پوچھا تھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس مسلمان کے لیے چار بندے اس کی بھلائی (نیکی) کی گواہی دے دیں تو اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کریں گے ۔ ہم نے کہا : اگر تین ہوں تو انھوں نے کہا : تین بھی، ہم نے کہا : دو ہوں تو انھوں نے کہا : دو بھی۔ پھر ہم نے ایک کے بارے میں نہ پوچھا۔