hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 7191

.

سنن البيهقي

7191
Sunan Al Bayhaqi
(۷۱۹۰) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو الْیَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَیْبٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ قَالَ أَخْبَرَنِی خَارِجَۃُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ أُمِّ الْعَلاَئِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا امْرَأَۃٌ مِنْ نِسَائِہِمْ قَدْ بَایَعَتْ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- أَخْبَرَتْہُ : أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ مَظْعُونٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ طَارَ لَہُمْ فِی سَہْمِہ السُّکْنَی حِینَ اقْتَرَعَتِ الأَنْصَارُ فِی سُکْنَی الْمُہَاجِرِینَ قَالَتْ أُمُّ الْعَلاَئِ : فَسَکَنَ عِنْدَنَا عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ فَاشْتَکَی فَمَرَّضْنَاہُ حَتَّی إِذَا تُوُفِّیَ وَجَعَلْنَاہُ فِی ثِیَابِہِ دَخَلَ عَلَیْنَا النَّبِیَّ -ﷺ- فَقُلْتُ : رَحْمَۃُ اللَّہِ عَلَیْکَ أَبَا السَّائِبِ فَشَہَادَتِی عَلَیْکَ لَقَدْ أَکْرَمَکَ اللَّہُ فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : ((وَمَا یُدْرِیکِ أَنَّ اللَّہَ أَکْرَمَہُ))۔ فَقُلْتُ: لاَ أَدْرِی بِأَبِی أَنْتَ وَأُمِّی فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : ((أَمَّا عُثْمَانُ فَقَدْ جَائَ ہُ الْیَقِینُ وَإِنِّی لأَرْجُو لَہُ الْخَیْرَ، وَاللَّہِ مَا أَدْرِی وَأَنَا رَسُولُ اللَّہِ مَا یُفْعَلُ بِی))۔ - قَالَتْ - فَوَاللَّہِ لاَ أُزَکِّی أَحَدًا أَبَدًا وَأَحْزَنَنِی ذَلِکَ فَنِمْتُ فَأَریْتُ لِعُثْمَانَ عَیْنًا تَجْرِی فَجِئْتُ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَأَخْبَرْتُہُ فَقَالَ : ((ذَلِکَ عَمَلُہُ))۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْیَمَانِ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]
(٧١٩٠) خارجہ بن اسید ام علاء سے فرماتے ہیں کہ اس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیعت کی اور خبر دی کہ عثمان بن مظعون کی رہائش کا قرعہ ان کے نام نکلا ہے۔ جب انصار و مہاجرین میں قرعہ اندازی کی گئی۔ ام علاء فرماتی ہیں کہ عثمان بن مظعون ہمارے ہاں ٹھہرے اور وہ بیمار ہوگئے۔ ہم نے تیمار داری کی حتیٰ کہ وہ فوت ہوگئے اور ہم نے انھیں ان کے کپڑوں میں لپیٹ دیا ہمارے پاس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آئے تو میں نے کہا : اے ابو سائب ! تجھ پر اللہ کی رحمت ہو میں تیرے حق میں گواہی دیتی ہوں کہ اللہ نے تجھے عزت بخشی ہے تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تجھے کیا معلوم کہ اللہ نے اسے عزت بخشی تو میں نے کہا، اے اللہ کے رسول ! میرے ماں والد آپ پر فدا ہوں تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : لیکن جو عثمان ہے اس کے پاس موت آئی اور میں اس سے بھلائی کی امید رکھتا ہوں، اللہ کی قسم ! میں اللہ کا رسول ہوں، لیکن میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا۔ فرماتی ہیں : اللہ کی قسم ! اس کے بعد میں نے کسی کو پاکیزہ نہیں کہا اور مجھے اس بات نے غم گین کردیا اور میں سو گئی تو مجھے عثمان کے لیے ایک چشمہ دکھایا گیا جو بہہ رہا تھا تو میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خبر دی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ اس کے اعمال ہیں۔