(۷۱۹۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ : زَیْدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْعَلَوِیُّ بِالْکُوفَۃِ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرِ بْنُ دُحَیْمٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ أَبِی الْحُنَیْنِ حَدَّثَنَا أَبُو حُذَیْفَۃَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ - یَعْنِی ابْنَ طَہْمَانَ - حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَامِرٍ وَعَبْدُ الْوَارِثِ عَنْ أَنَسٍ قَالَ : نَہَی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَذَکَرَ لُحُومَ الأَضَاحِیِّ وَالأَوْعِیَۃِ وَزِیَارَۃِ الْقُبُورِ ، ثُمَّ ذَکَرَ إِذْنَہُ فِیہَا بِطُولِہِ قَالَ : ((وَکُنْتُ نَہَیْتُکُمْ عَنْ زِیَارَۃِ الْقُبُورِ ثُمَّ بَدَا لِی فَزُورُوہَا فَإِنَّہَا تُرِقُّ الْقَلْبِ وَتُدْمِعُ الْعَیْنَ وَتُذَکِّرُ الآخِرَۃَ فَزُورُوا وَلاَ تَقُولُوا ہُجْرًا))۔
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ یَحْیَی بْنُ الْحَارِثِ عَنْ عَمْرٍو۔
وَرُوِّینَا قَوْلَہُ ((وَلاَ تَقُولُوا ہُجْرًا)) مِنْ حَدِیثِ مَالِکٍ عَنْ رَبِیعَۃَ بْنِ أَبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : ((وَنَہَیْتُکُمْ عَنْ زِیَارَۃِ الْقُبُورِ فَزُورُوہَا وَلاَ تَقُولُوا ہُجْرًا)) إِلاَّ أَنَّہُ مُرْسَلٌ رَبِیعَۃُ لَمْ یُدْرِکْ أَبَا سَعِیدٍ۔ [صحیح۔ أخرجہ أحمد]
(٧١٩٨) انس (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منع کیا اور قربانی کے گوشت کا تذکرہ کیا اور برتنوں کا اور قبروں کی زیارت کا بھی۔ پھر ان سب کی اجازت کا تذکرہ کیا۔ ایک حدیث میں ہے کہ میں تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا کرتا تھا تم ان کی زیارت کیا کرو بیشک وہ دل نرم کرتی ہیں اور آنسو بہاتی ہیں اور آخرت کی یاد دلاتی ہیں۔ سو تم زیارت کرو مگر بین نہ کرو۔ ابو سعید خدری (رض) فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں تمہیں زیارتِ قبور سے روکتا تھا سو اب تم زیارت کیا کرو لیکن بین نہ کیا کرو۔