(۷۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَئِ وَأَیُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقِّیُّ وَعَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ الْحِمْصِیُّ قَالُوا حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِیَۃَ أَخْبَرَنَا ہِلاَلُ بْنُ مَیْمُونٍ الْجُہَنِیُّ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَزِیدَ اللَّیْثِیِّ قَالَ ہِلاَلٌ لاَ أَعْلَمُہُ إِلاَّ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ وَقَالَ أَیُّوبُ وَعَمْرٌو أُرَاہُ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ: أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ-مَرَّ بِغُلاَمٍ یَسْلُخُ شَاۃً ، فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-: تَنَحَّ حَتَّی أُرِیَکَ۔فَأَدْخَلَ یَدَہُ بَیْنَ الْجِلْدِ وَاللَّحْمِ، فَدَحَسَ بِہَا حَتَّی تَوَارَتْ إِلَی الإِبْطِ، ثُمَّ مَضَی فَصَلَّی بِالنَّاسِ وَلَمْ یَتَوَضَّأْ۔
قَالَ أَبُو دَاوُدَ: زَادَ عَمْرٌو فِی حَدِیثِہِ یَعْنِی لَمْ یَمَسَّ مَائً ، وَقَالَ عَنْ ہِلاَلِ بْنِ مَیْمُونٍ الرَّمْلِیِّ۔
(ت) قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَرَوَاہُ عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِیَادٍ وَأَبُو مُعَاوِیَۃَ عَنْ ہِلاَلٍ عَنْ عَطَائٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ-مُرْسَلاً لَمْ یَذْکُرْ أَبَا سَعِیدٍ۔ [صحیح۔ أخرجہ ابو داؤد ۱۸۵]
(٧٣) حضرت ابو سعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک بچے کے پاس سے گزرے جو بکری کو کھینچ کرلے جا رہا تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے فرمایا : ” ٹھہر جا میں تمہیں (کچھ) دکھاتا ہوں “ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا ہاتھ کھال اور گوشت کے درمیان داخل کیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہاتھ اتنا گھسایا کہ وہ پیٹ میں چھپ گیا، پھر آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی لیکن وضو نہیں کیا۔
(ب) امام ابوداؤد (رح) کہتے ہیں کہ عمرو نے اپنی حدیث میں یہ اضافہ کیا ہے کہ پانی کو نہیں چھوا۔
(ج) حضرت عطاء بھی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ روایت مرسل بیان کرتے ہیں، سیدنا ابو سعید (رض) کا واسطہ ذکر نہیں کرتے۔