hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 7217

.

سنن البيهقي

7217
Sunan Al Bayhaqi
(۷۲۱۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو سَہْلٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ النَّحْوِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو قِلاَبَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ حَدَّثَنَا الأَسْوَدُ بْنُ شَیْبَانَ حَدَّثَنِی خَالِدُ بْنُ سُمَیْرٍ حَدَّثَنِی بَشِیرُ بْنُ نَہِیکٍ قَالَ حَدَّثَنِی بَشِیرٌ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَکَانَ اسْمُہُ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ زَحْمَ بْنَ مَعْبَدٍ فَقَالَ لَہُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- : ((مَا اسْمُکَ؟))۔ قَالَ : زَحْمُ بْنُ مَعْبَدٍ قَالَ : ((أَنْتَ بَشِیرٌ))۔ فَکَانَ اسْمَہُ قَالَ : بَیْنَا أَنَا أُمَاشِی رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ : ((یَا ابْنَ الْخَصَاصِیَۃِ مَا أَصْبَحْتَ تَنْقِمُ عَلَی اللَّہِ تُمَاشِی رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ))- ۔ فَقُلْتُ : مَا أَنْقِمُ عَلَی اللَّہِ شَیْئًا کُلُّ خَیْرٍ فَعَلَ بِیَ اللَّہِ۔ فَأَتَی عَلَی قُبُورِ الْمُشْرِکِینَ فَقَالَ : ((لَقَدْ سُبِقَ ہَؤُلاَئِ بِخَیْرٍ کَثِیرٍ))۔ ثَلاَثَ مِرَارٍ ، ثُمَّ أَتَی عَلَی قُبُورِ الْمُسْلِمِینَ فَقَالَ : ((لَقَدْ أَدْرَکَ ہَؤُلاَئِ خَیْرًا کَثِیرًا))۔ ثَلاَثَ مِرَارٍ فَبَیْنَمَا ہُوَ یَمْشِی إِذْ حَانَتْ مِنْہُ نَظْرَۃٌ فَإِذَا بِرَجُلٌ یَمْشِی بَیْنَ الْقُبُورِ عَلَیْہِ نَعْلاَنِ فَقَالَ : ((یَا صَاحِبَ السِّبْتِیَّتَیْنِ وَیْحَکَ أَلْقِ سِبْتِیَّتَیْکَ))۔ فَنَظَرَ فَلَمَّا عَرَفَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- خَلَعَ نَعْلَیْہِ فَرَمَی بِہِمَا۔ وَہَذَا حَدِیثٌ قَدْ رَوَاہُ جَمَاعَۃٌ عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ شَیْبَانَ وَلاَ یُعْرَفُ إِلاَّ بِہَذَا الإِسْنَادِ۔ وَثَابِتٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- مَا۔ [صحیح۔ أخرجہ ابو داؤد]
(٧٢١٦) بشیر بن نہیک بیان کرتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بشیر نے (جس کا جاہلیت کا نا زحم بن معبد تھا) حدیث بیان کی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے پوچھا : تیرا نام کیا ہے ؟ اس نے کہا : زحم بن معبد۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو بشیر ہے تو اس کا نام یہی ٹھہرا فرماتے ہیں : ایک مرتبہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ جا رہا تھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ابن خصاصیۃ ! تو نے صبح نہیں کی مگر اس حالت میں کہ تو اللہ سے بدلہ لے رہا ہے، تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ چل رہا ہے تو میں نے کہا : میں اللہ تعالیٰ سے کوئی بدلہ نہیں لے رہا، میرے ساتھ میرے اللہ نے سب بھلا ہی کیا ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مشرکین کے قبرستان آئے اور فرمایا : یہ لوگ ایسے جن جن سے بہت سی خبر سبقت لے جا چکی ہے۔ یہ بات آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تین مرتبہ دھرائی، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسلمانوں کی قبروں کے پاس آئے اور فرمایا : انھوں نے بہت زیادہ بھلائی حاصل کی ہے ، تین بار آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہی کہا اور آپ ایسے ہی چلتے رہے کہ ایک ایسے شخص پر نظر پڑی جو قبرستان کے درمیان چل رہا تھا اور اس کے کہ اوپر جوتے تھے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے جوتوں والے ! اپنے جوتے پھینک دے ، اس نے دیکھا کہ آپ تو اللہ کے رسول ہیں تو اس نے جوتے اتار کر پھینک دے۔