(۷۲۱۷) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْفَضْلِ : الْحَسَنُ بْنُ یَعْقُوبَ الْعَدْلُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ - یَعْنِی ابْنَ عَطَائٍ - عَنْ سَعِیدٍ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ نَبِیَّ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : ((إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا وُضِعَ فِی قَبْرِہِ وَتَوَلَّی عَنْہُ أَصْحَابُہُ إِنَّہُ لَیَسْمَعُ قَرْعَ نِعَالِہِمْ ۔ یَأْتِیہِ مَلَکَانِ فَیَقُولاَنِ مَا کُنْتَ تَقُولُ فِی ہَذَا الرَّجُلِ - یَعْنِی مُحَمَّدًا - -ﷺ- قَالَ : فَأَمَّا الْمُؤْمِنُ فَیَقُولُ : أَشْہَدُ أَنَّہُ عَبْدُ اللَّہِ وَرَسُولُہُ فَیُقَالُ لَہُ انْظُرْ إِلَی مَقْعَدِکَ فِی النَّارِ قَدْ أَبْدَلَکَ اللَّہُ مَقْعَدًا فِی الْجَنَّۃِ فَیَرَاہُمَا جَمِیعًا)) رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَمْرِو بْنِ زُرَارَۃَ عَنْ عَبْدِالْوَہَّابِ، وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی عَرُوبَۃَ۔
فَیُحْتَمَلُ أَنْ یَکُونَ النَّبِیُّ -ﷺ- رَأَی بِنَعْلَیْہِ قَذَرًا فَأَمَرَہُ أَنْ یَخْلَعَہُمَا لأَجْلِ ذَلِکَ ، وَیُحْتَمَلُ غَیْرَ ذَلِکَ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [صحیح۔ البخاری]
(٧٢١٧) انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ اللہ کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیشک بندہ جب قبر میں رکھا جاتا ہے اور اس کے ساتھی واپس پلٹتے ہیں تو وہ ان کے جوتوں کی چاپ سنتا ہے ، اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں اور اسے بٹھا لیتے ہیں اور کہتے ہیں : تو اس آدمی کے بارے کیا کہتا ہے ، یعنی (محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ) کے بارے میں۔ انھوں نے کہا : اگر وہ مومن ہے تو کہتا ہے : میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کا بندہ اور رسول ہے تو اسے کہا جاتا ہے تو اپنا ٹھکانا دوزخ میں دیکھ لے، مگر اللہ نے تیرا ٹھکانا جنت میں تبدیل کردیا ہے تو وہ ان دونوں کو دیکھتا ہے۔
اس بات کا بھی احتمال ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جوتوں میں گندگی گی دیکھی ہو اور اسی وجہ سے ان کے اتارنے کا حکم دیا اور اس کے علاوہ کا بھی احتمال ہے۔