hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 7252

.

سنن البيهقي

7252
Sunan Al Bayhaqi
(۷۲۵۱) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی فِی آخَرِینَ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا أَنَسُ بْنُ عِیَاضٍ عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَۃَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ : أَنَّ ہَذَا کِتَابُ الصَّدَقَاتِ فِیہِ ((فِی کُلِّ أَرْبَعٍ وَعِشْرِینَ مِنَ الإِبِلِ فَدُونِہَا الْغَنَمُ فِی کُلِّ خَمْسٍ شَاۃٌ وَفِیمَا فَوْقَ ذَلِکَ إِلَی خَمْسٍ وَثَلاَثِینَ ابْنَۃُ مَخَاضٍ فَإِنْ لَمْ تَکُنْ بِنْتُ مَخَاضٍ فَابْنُ لَبُونٍ ذَکَرٌ ، وَفِیمَا فَوْقَ ذَلِکَ إِلَی خَمْسٍ وَأَرْبَعِینَ ابْنَۃُ لَبُونٍ ، وَفِیمَا فَوْقَ ذَلِکَ إِلَی سِتِّینَ حِقَّۃٌ طَرُوقَۃَ الْفَحْلِ ، وَفِیمَا فَوْقَ ذَلِکَ إِلَی خَمْسٍ وَسَبْعِینَ جَذَعَۃٌ ، وَفِیمَا فَوْقَ ذَلِکَ إِلَی تِسْعِینَ ابْنَتَا لَبُونٍ ، وَفِیمَا فَوْقَ ذَلِکَ إِلَی عِشْرِینَ وَمِائَۃٍ حِقَّتَانِ طَرُوقَتَا الْفَحْلِ ، فَمَا زَادَ عَلَی ذَلِکَ فَفِی کُلِّ أَرْبَعِینَ ابْنَۃُ لَبُونٍ وَفِی کُلِّ خَمْسِینَ حِقَّۃٌ وَفِی سَائِمَۃِ الْغَنَمِ إِذَا کَانَتْ أَرْبَعِینَ إِلَی أَنْ تَبْلُغَ عِشْرِینَ وَمِائَۃٍ شَاۃٌ ، وَفِیمَا فَوْقَ ذَلِکَ إِلَی مِائَتَیْنِ شَاتَانِ ، وَفِیمَا فَوْقَ ذَلِکَ إِلَی ثَلاَثِمِائَۃٍ ثَلاَثُ شِیَاہٍ ، فَما زَادَ عَلَی ذَلِکَ فَفِی کُلِّ مِائَۃٍ شَاۃٌ وَلاَ تُخْرَجُ فِی الصَّدَقَۃِ ہَرِمَۃٌ ، وَلاَ ذَاتُ عَوَارٍ ، وَلاَ تَیْسٌ إِلاَّ مَا شَائَ الْمُصَدِّقُ ، وَلاَ یُجْمَعُ بَیْنَ مُتَفَرِّقٍ ، وَلاَ یُفَرَّقُ بَیْنَ مُجْتَمِعٍ خَشْیَۃَ الصَّدَقَۃِ ، وَمَا کَانَ مِنْ خَلِیطَیْنِ فَإِنَّہُمَا یَتَرَاجَعَانِ بَیْنَہُمَا بِالسَّوِیَّۃِ وَفِی الرِّقَّۃِ رُبْعُ الْعَشْرِ إِذَا بَلَغَتْ رِقَّۃُ أَحَدِہِمْ خَمْسَ أَوَاقٍ))۔ ہَذِہِ نُسْخَۃُ کِتَابِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ الَّتِی کَانَ یَأْخُذُ عَلَیْہَا۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ وَبِہَذَا کُلُّہُ نَأْخُذُ۔ وَقَدْ رَوَاہُ سُفْیَانُ بْنُ حُسَیْنٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ أَبِیہِ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ-۔ [صحیح۔ أخرجہ الشافعی]
(٧٢٥١) عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ یہ زکوۃ کے نصاب کی تحریر ہے : چوبیس یا اس سے کم اونٹوں میں ہر پانچ پر ایک بکری ہے اور جو اس سے زیادہ پینتیس تک میں بنت مخاص ہے۔ اگر بنت مخاص نہ ہو تو مذکر ابن لبون ہے اور اس سے اوپر پنتالیس تک بنت لبون مونث ہے اور جو اس سے زیادہ ہوں تو ساٹھ تک ’ حقہ ‘ ہے، جو سانڈ کو قبول کرے اور جو اس سے زیادہ ہوں تو پچھتر تک جذعہ ہے اور اگر اس سے زیادہ ہوں تو نوے تک دو بنت لبون ہیں۔ اگر اس سے زیادہ ہوں تو 120 تک دو حقے ہیں جو سانڈ کو قبول کرنے والیاں اور جو اس سے زیادہ ہوں تو ہر چالیس میں بنت لبون اور ہر پچاس میں حقہ ہے اور چرنے والی بکریاں جب 40 چالیس سے ایک سو بیس تک پہنچیں تو ان میں سے ایک بکری ہے اور جو اس سے زیادہ ہوں تو دو سو تک دو بکریاں اور زیادہ ہوں تو تین سو میں تین بکریاں اور جو اس سے زیادہ ہوں گی تو ہر سو میں ایک بکری اور زکوۃ میں بوڑھی بھینگی اور سانڈ نہیں نکالا جائے گا مگر یہ کہ عامل خود لینا چاہے اور جدا جدا چرنے والیوں کو اکٹھا نہ کیا جائے اور نہ ہی اکٹھی چرنے والیوں کو جدا جدا کیا جائے زکوۃ کے ڈر سے اور جو شراکت دار ہیں وہ برابر میں تقسیم کریں گے اور چاندی میں چوتھائی عشر ہے، جب تم میں سے کسی کے پاس چاندی پانچ اوقیہ تک پہنچ جائے۔