(۷۲۵۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ وَحَبِیبٌ عَنْ عَمْرِو بْنِ ہَرِمٍ : أَنَّ أَبَا الرِّجَالِ : مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَنْصَارِیَّ حَدَّثَہُ:
أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِیزِ حِینَ اسْتُخْلِفَ أَرْسَلَ إِلَی الْمَدِینَۃِ یَلْتَمِسُ عَہْدَ النَّبِیِّ -ﷺ- فِی الصَّدَقَاتِ فَوَجَدَ عِنْدَ آلِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ کِتَابَ النَّبِیِّ -ﷺ- إِلَی عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ فِی الصَّدَقَاتِ وَوُجِدَ عِنْدَ آلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کِتَابَ عُمَرَ إِلَی عُمَّالِہِ فِی الصَّدَقَاتِ بِمِثْلِ کِتَابِ النَّبِیِّ -ﷺ- إِلَی عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ فَأَمَرَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ عُمَّالَہُ عَلَی الصَّدَقَاتِ أَنْ یَأْخُذُوا بِمَا فِی ذَیْنِکَ الْکِتَابَیْنِ فَکَانَ فِیہِمَا فِی صَدَقَۃِ الإِبِلِ : ((مَا زَادَتْ عَلَی التِّسْعِینَ وَاحِدَۃٌ فَفِیہَا حِقَّتَانِ إِلَی عِشْرِینَ وَمِائَۃٍ ، فَإِذَا زَادَتْ عَلَی الْعِشْرِینِ وَمِائَۃٍ وَاحِدَۃً فَفِیہَا ثَلاَثُ بَنَاتِ لَبُونٍ حَتَّی تَبْلُغَ تِسْعًا وَعِشْرِینَ وَمِائَۃً ، فَإِذَا کَانَتِ الإِبِلُ أَکْثَرَ مِنْ ذَلِکَ فَلَیْسَ فِیمَا لاَ یَبْلُغُ الْعَشَرَۃَ مِنْہَا شَیْئٌ حَتَّی تَبْلُغَ الْعَشَرَۃَ))۔ [حسن۔ تقدم قبلہ]
(٧٢٥٩) عمر بن عبد العزیز جب خلیفہ بنے تو مدینہ میں پیغام بھیجا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور کا زکوۃ والا خط تلاش کیا جائے تو وہ آل عمرو بن حزم سے ملا اور آل عمر بن خطاب (رض) سے جو عمر (رض) نے اپنے عمال کی طرف بھیجا تھا ، یہ ویسا ہی تھا جو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عمرو بن حزم کی طرف لکھا تھا تو عمر بن عبد العزیز نے کہا : ان دونوں نسخوں سے فریضہ زکوۃ مقرر کیا جائے اس میں اونٹوں کی زکوۃ اس طرح تھی۔ جب نوے سے زائد ہوجائیں تو اس میں تین بنت لبون ہیں۔ جب ایک سو بیس سے ایک بھی زیادہ ہوجائیں تو اس میں تین بنت لبون ہیں۔ یہاں تک کہ وہ ایک سو انتیس ہوجائیں اور جب اونٹ اس سے زیادہ ہوجائیں تو ایسے ہی ہے اور جب تک دس اونٹ نہ ہوجائیں اس میں کوئی زکوۃ نہیں۔