(۷۲۶۵) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ قَالَ قَالَ الشَّافِعِیُّ قَالَ شَرِیکٌ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَۃَ عَنْ عَلِیٍّ عَلَیْہِ السَّلاَمُ قَالَ : إِذَا زَادَتِ الإِبِلُ عَلَی عِشْرِینَ وَمِائَۃٍ فَفِی کُلِّ خَمْسِینَ حِقَّۃٌ ، وَفِی کُلِّ أَرْبَعِینَ بِنْتُ لَبُونٍ
قَالَ وَقَالَ عَمْرُو بْنُ الْہَیْثَمِ وَغَیْرُہُ عَنْ شُعْبَۃَ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ عَلِیٍّ مِثْلَہُ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ: وَبِہَذَا نَقُولُ وَہُوَ مُوَافِقٌ لِلسُّنَّۃِ وَہُمْ - یَعْنِی بَعْضَ الْعِرَاقِیِّینَ - لاَ یَأْخُذُونَ بِہَذَا فَیُخَالِفُونَ مَا رُوِیَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- وَأَبِی بَکْرٍ وَعُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا وَالثَّابِتَ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عِنْدَہُمْ إِلَی قَوْلِ إِبْرَاہِیمَ وَشَیْئٍ یُغْلَطُ بِہِ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ۔
(٧٢٦٥) عاصم بن ضمرۃ علی (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ جب اونٹ ایک سو بیس سے زیادہ ہوجائیں تو ہر پچاس میں حقہ اور ہر چالیس میں بنت لبون ہوگی۔
امام شافعی فرماتے ہیں : یہ جو بات ہم کہتے ہیں وہ سنت کے موافق ہے، بعض عراقی اسے نہیں لیتے کہ جو بات نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابوبکر وعمر نے کی، بلکہ اس کی مخالفت کرتے ہیں اور جو علی (رض) سے منقول ہے وہی ان کے پاس ثابت اور جو دوسری سند سے ثابت ہیں ، ان کے پاس۔ وہ غلط ہے۔