(۷۲۶۷) کَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَیْلِیُّ حَدَّثَنَا زُہَیْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَۃَ وَعَنِ الْحَارِثِ الأَعْوَرِ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ زُہَیْرٌ أَحْسِبُہُ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- أَنَّہُ قَالَ : ((ہَاتُوا رُبُعَ الْعُشْرِ ۔۔۔)) فَذَکَرَ الْحَدِیثَ إِلَی أَنْ قَالَ: ((وَفِی الإِبِلِ ۔۔۔)) فَذَکَرَ صَدَقَتَہَا کَمَا ذَکَرَ الزُّہْرِیُّ - قَالَ - ((وَفِی خَمْسٍ وَعِشْرِینَ خَمْسَ مِنَ الْغَنَمِ ، فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَۃٌ فَفِیہَا بِنْتُ مَخَاضٍ فَإِنْ لَمْ تَکُنِ ابْنَۃُ مَخَاضٍ فَابْنُ لَبُونٍ ذَکَرٌ إِلَی خَمْسٍ وَثَلاَثِینَ))، ثُمَّ سَاقَ الْحَدِیثَ -قَالَ- ((فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَۃٌ -یَعْنِی عَلَی التِّسْعِینَ- فَفِیہَا حِقَّتَانِ طَرُوقَتَا الْجَمَلِ إِلَی عِشْرِینَ وَمِائَۃٍ، فَإِنْ کَانَتِ الإِبِلُ أَکْثَرَ مِنْ ذَلِکَ فَفِی کُلِّ خَمْسِینَ حِقَّۃٌ )) وَذَکَرَ بَاقِیَ الْحَدِیثِ لَیْسَ فِیہِ مَا فِی رِوَایَۃِ سُفْیَانَ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ مِنَ الاِسْتِئْنَافِ وَفِیہِ وَفِی کَثِیرٍ مِنَ الرِّوَایَاتِ عَنْہُ فِی خَمْسٍ وَعِشْرِینَ خَمْسُ شِیَاہٍ۔ وَقَدْ أَجْمَعُوا عَلَی تَرْکِ الْقَوْلِ بِہِ لِمُخَالَفَۃِ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَۃَ وَالْحَارِثِ الأَعْوَرِ عَنْ عَلِیٍّ عَلَیْہِ السَّلاَمُ الرِّوَایَاتِ الْمَشْہُورَۃَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- وَعَنْ أَبِی بَکْرٍ وَعُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فِی الصَّدَقَاتِ فِی ذَلِکَ۔
کَذَلِکَ رِوَایَۃُ مِنْ رَوَی عَنْہُ الاِسْتِئْنَافِ مُخَالَفَۃٌ لِتِلْکَ الرِّوَایَاتِ الْمَشْہُورَۃِ مَعَ مَا فِی نَفْسِہَا مِنَ الاِخْتِلاَفِ وَالْغَلَطِ وَطَعْنِ أَئِمَّۃِ أَہْلِ النَّقْلِ فِیہَا فَوَجَبَ تَرْکُہَا وَالْمَصِیرُ إِلَی مَا ہُوَ أَقْوَی مِنْہَا وَبِاللَّہِ التَّوْفِیقُ۔
[حسن۔ أخرجہ ابو داؤد]
(٧٢٦٧) زھیر (رض) فرماتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عشر کا چوتھائی حصہ لاؤ ، پھر اس حدیث کو یہاں تک بیان کیا اور اونٹوں میں۔۔۔ پھر ان کی زکوۃ ایسے ہی بیان کی جیسے زہری (رح) نے بیان کی کہ پچیس اونٹوں میں پانچ بکریاں ہیں۔ جب ایک زیادہ ہوجائے تو اس میں بنت مخاض ہوگی۔ اگر بنت مخاض نہ ہو تو پھر ابن لبون مذکر ہوگا پنتیس تک۔ پھر حدیث بیان کی کہ جب ایک زیادہ ہوجائے یعنی نوے سے تو اس میں دوحقے ہیں سانڈ کو قبول کرنے والے اور یہ ایک سو بیس تک ہیں۔ اگر اونٹ اس سے زیادہ ہوجائیں تو پھر ہر پچاس میں حقہ ہے۔