(۷۲۶۸) وَأَمَّا الأَثَرُ الَّذِی ذَکَرَہُ أَبُو دَاوُدَ فِی الْمَرَاسِیلِ عَنْ مُوسَی بْنِ إِسْمَاعِیلَ قَالَ قَالَ حَمَّادٌ قُلْتُ : لِقَیْسِ بْنِ سَعْدٍ خُذْ لِی کِتَابَ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ فَأَعْطَانِی کِتَابًا أَخْبَرَ أَنَّہُ أَخَذَہُ مِنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- کَتَبَہُ لِجَدِّہِ فَقَرَأْتُہُ فَکَانَ فِیہِ ذِکْرُ مَا یَخْرُجُ مِنْ فَرَائِضِ الإِبِلِ فَقَصَّ الْحَدِیثَ ((إِلَی أَنْ تَبْلُغَ عِشْرِینَ وَمِائَۃً ، فَإِذَا کَانَتْ أَکْثَرَ مِنْ ذَلِکَ فَعُدَّ فِی کُلِّ خَمْسِینَ حِقَّۃً ، وَمَا فَضَلَ فَإِنَّہُ یُعَادُ إِلَی أَوَّلِ فَرِیضَۃِ الإِبِلِ ، وَمَا کَانَ أَقَلَّ مِنْ خَمْسٍ وَعِشْرِینَ فَفِیہِ الْغَنَمُ فِی کُلِّ خَمْسِ ذَوْدٍ شَاۃٌ لَیْسَ فِیہَا ذَکَرٌ ، وَلاَ ہَرِمَۃٌ ، وَلاَ ذَاتُ عَوَارٍ مِنَ الْغَنَمِ))
فَہَذَا فِیمَا أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ السُّلَیْمَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ الْفَسَوِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَلِیٍّ اللُّؤْلُؤِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ فَذَکَرَہُ وَہُوَ مُنْقَطِعٌ بَیْنَ أَبِی بَکْرِ بْنِ حَزْمٍ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- وَقَیْسُ بْنُ سَعْدٍ أَخَذَہُ عَنْ کِتَابٍ لاَ عَنْ سَمَاعٍ، وَکَذَلِکَ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ أَخَذَہُ عَنْ کِتَابٍ لاَ عَنْ سَمَاعٍ۔ وَقَیْسُ بْنُ سَعْدٍ وَحَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ وَإِنْ کَانَا مِنَ الثِّقَاتِ فَرِوَایَتُہُمَا ہَذِہِ بِخِلاَفِ رِوَایَۃِ الْحُفَّاظِ عَنْ کِتَابِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ وَغَیْرِہِ۔
(ج) وَحَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ سَائَ حَفِظُہُ فِی آخِرِ عُمْرِہِ۔
فَالْحُفَّاظُ لاَ یَحْتَجُّونَ بِمَا یُخَالِفُ فِیہِ وَیَتَجَنَّبُونَ مَا یتَفَرَّدَ بِہِ عَنْ قَیْسِ بْنِ سَعْدٍ خَاصَّۃً وَأَمْثَالِہِ وَہَذَا الْحَدِیثُ قَدْ جَمَعَ الأَمْرَیْنِ مَعَ مَا فِیہِ مِنَ الاِنْقِطَاعِ وَبِاللَّہِ التَّوْفِیقُ۔ [ضعیف۔ أخرجہ الطحاوی]
(٧٢٦٨) عمرو بن حزم (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے دادا کے لیے تحریر لکھی جسے میں یہ بیان کیا گیا تھا کہ کتنے اونٹوں میں سے زکوۃ نکالی جائے۔ پھر حدیث بیان کی، یہاں تک کہ وہ ایک سو بیس تک پہنچ جائیں ۔ جب اس سے زیادہ ہوجائیں تو ہر پچاس میں حقہ ہے جو بچ رہیں تو انھیں پہلے فریضے کی طرف لوٹایا جائے گا اور جو پچاس سے کم ہوں تو اس میں بکریاں ہیں۔ ہر پانچ اونٹوں میں ایک بکری ہوگی مگر نر نہیں اور نہ ہی بوڑھی اور نہ ہی بکریوں میں سے عیب والی۔
سو حفاظ اسے دلیل نہیں بناتے جس میں اختلاف ہو ، بلکہ جس سند میں قیس بن سعد سے تفرد ہو یا اس جیسی کوئی اور اس حدیث میں دو باتوں کو جمع کردیا گیا ہے جس میں انقطاع موجود ہے۔