(۷۲۷۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتُوَیْہِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنِی عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ سَالِمٍ عَنِ الزَّبِیدِیِّ قَالَ حَدَّثَنِی یَحْیَی بْنُ جَابِرٍ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ جُبَیْرٍ حَدَّثَہُ أَنَّ أَبَاہُ حَدَّثَہُ أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ مُعَاوِیَۃَ الْغَاضِرِیَّ حَدَّثَہُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : ((ثَلاَثٌ مَنْ فَعَلَہُنَّ فَقَدْ طَعِمَ طَعْمَ الإِیمَانِ : مَنْ عَبَدَ اللَّہَ وَحْدَہُ فَإِنَّہُ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ، وَأَعْطَی زَکَاۃَ مَالِہِ طَیِّبَۃً بِہَا نَفْسُہُ رَافِدَۃً عَلَیْہِ فِی کُلِّ عَامٍ ، وَلَمْ یُعْطِ الْہَرِمَۃَ وَلاَ الدَّرِنَۃَ وَلاَ الشَّرَطَ اللاَّئِمَۃَ وَلاَ الْمَرِیضَۃَ وَلَکِنْ مِنْ أَوْسَطِ أَمْوَالِکُمْ فَإِنَّ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ)) لَمْ یَسْأَلْکُمْ خَیْرَہُ وَلَمْ یَأْمُرْکُمْ بِشَرِّہِ وَزَکَّی عَبْدٌ نَفْسَہُ فَقَالَ رَجُلٌ : مَا تَزْکِیَۃُ الْمَرْئِ نَفْسَہُ یَا رَسُولَ اللَّہِ قَالَ : ((یَعْلَمُ أَنَّ اللَّہَ مَعَہَ حَیْثُ مَا کَانَ))۔ وَقَالَ غَیْرُہُ : وَلاَ الشَّرَطَ اللَّئِیمَۃَ ۔ [صحیح۔ أخرجہ أبو داؤد]
(٧٢٧٥) عبداللہ بن معاویہ غاضری (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے تین کام کیے اس نے ایمان کی چاشنی چکھ لی : جس نے صرف ایک اللہ کی عبادت کی یہ جانتے ہوئے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ، دوسرا اپنے مال کی زکوۃ ہر سالطیبِ نفس سے ادا کی اور زکوۃ میں بوڑھا ، گھٹیا اور ملامت والا اور بیمار بلکہ اپنے درمیانے مال میں سے ادا کی۔ اللہ تعالیٰ تم سے عمدہ کا مطالبہ نہیں کرتا بلکہ اور نہ ہی بری چیز کا حکم دیتا ہے بلکہ وہ انسان کے نفس کو پاکیزہ کرنا چاہتا ہے تو ایک شخص نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! تزکیہ نفس کیا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ یقین رکھے کہ اللہ انسان کے ساتھ ہوتا ہے وہ جہاں کہیں بھی ہوتا ہے۔