(۷۲۷۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : الْقَاسِمُ بْنُ الْقَاسِمِ السَّیَّارِیُّ بِمَرْوَ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُوَجِّہِ حَدَّثَنَا عَبْدَانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ أَخْبَرَنَا زَکَرِیَّا بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ یَحْیَی بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ صَیْفِیٍّ عَنْ أَبِی مَعْبَدٍ مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- لِمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ حِینَ بَعَثَہُ إِلَی الْیَمَنِ : ((إِنَّکَ سَتَأْتِی قَوْمًا أَہْلَ کِتَابٍ فَإِذَا جِئْتَہُمْ فَادْعُہُمْ إِلَی أَنْ یَشْہَدُوا أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّہِ۔ فَإِنْ ہُمْ أَطَاعُوا لَکَ بِذَلِکَ فَأَخْبِرْہُمْ أَنَّ اللَّہَ قَدْ فَرَضَ عَلَیْہِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِی کُلِّ یَوْمٍ وَلَیْلَۃٍ فَإِنْ ہُمْ أَطَاعُوکَ لَکَ بِذَلِکَ فَأَخْبِرْہُمْ أَنَّ اللَّہَ قَدْ فَرَضَ عَلَیْہِمْ صَدَقَۃً تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِیَائِہِمْ فَتُرَدُّ عَلَی فُقَرَائِہِمْ فَإِنْ ہُمْ أَطَاعُوا لَکَ بِذَلِکَ فَإِیَّاکَ وَکَرَائِمَ أَمْوَالِہِمْ ، وَاتَّقِ دَعْوَۃَ الْمَظْلُومِ فَإِنَّہُ لَیْسَ بَیْنَہُ وَبَیْنَ اللَّہِ حِجَابٌ))۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدٍ وَغَیْرِہِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْمُبَارَکِ ، وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وُجُوہٍ أُخَرَ عَنْ زَکَرِیَّا۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری]
(٧٢٧٦) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے معاذ بن جبل سی فرمایا : جب انھیں یمن بھیجا کہ تم اہل کتاب کی ایک ایسی قوم کے پاس جاؤ گے جب ان کے پاس آؤ تو انھیں دعوت دو کہ وہ یہ اقرار کریں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یقیناً محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں۔ اگر وہ آپ کی بات مان لیں تو انھیں بتاؤ کہ اللہ نے ان پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں ایک دن و رات میں۔ اگر وہ آپ کی یہ بات بھی مان لیں تو انھیں بتاؤ کہ اللہ نے ان پر زکوۃ فرض کی ہے کہ وہ امیروں سے لے کر غریبوں کو دی جائے۔ اگر وہ آپ کی یہ بات بھی تسلیم کرلیں تو پھر تو ان کے عمدہ اموال سے بچو اور مظلوم کی بددعا سے بھی بچو، کیونکہ مظلوم اور اللہ کے درمیان کوئی پردہ نہیں ہوتا۔