(۷۳۰۱) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی فِی آخَرِینَ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عَاصِمٍ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ عُمَرَ اسْتَعْمَلَ أَبَاہُ سُفْیَانَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ عَلَی الطَّائِفِ وَمَخَالِیفِہَا فَخَرَجَ مُصَدِّقًا فَاعْتَدَّ عَلَیْہِمْ بِالْغَذَائِ وَلَمْ یَأْخُذْہُ مِنْہُمْ فَقَالُوا لَہُ : إِنْ کُنْتَ مُعْتَدًّا عَلَیْنَا بِالْغَذَائِ فَخُذْہُ مِنَّا فَأَمْسَکَ حَتَّی لَقِیَ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ لَہُ : اعْلَمْ أَنَّہُمْ یَزْعُمُونَ أَنَّا نَظْلِمُہُمْ نَعْتَدُّ عَلَیْہِمْ بِالْغَذَائِ وَلاَ نَأْخُذُہُ مِنْہُمْ فَقَالَ لَہُ عُمَرُ : فَاعْتَدَّ عَلَیْہِمْ بِالْغَذَائِ حَتَّی بِالسَّخْلَۃِ یَرُوحُ بِہَا الرَّاعِی عَلَی یَدِہِ وَقُلْ لَہُمْ : لاَ آخُذُ مِنْکُمُ الرِّبَا وَلاَ الْمَاخِضَ ، وَلاَ ذَاتَ الدَّرِ ، وَلاَ الشَّاۃَ الأَکُولَۃَ ، وَلاَ فَحْلَ الْغَنَمِ وَخُذِ الْعَنَاقَ الْجَذَعَۃَ وَالثَّنِیَّۃَ فَذَلِکَ عَدْلٌ بَیْنَ غِذَائِ الْمَالِ وَخِیَارِہِ۔
[صحیح۔ أخرجہ ابن ابی شیبہ]
(٧٣٠١) بشر بن عاصم اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ عمر (رض) نے اس کے والد سفیان بن عبداللہ کو طائف پر عامل بنا کر بھیجا اور اس کے گردو نواح میں بھی تو وہ زکوۃ لینے کے لیے نکلے۔ سو انھوں نے ان پر غذا میں زیادتی کی اور ان سے وہ نہ لی تو انھوں نے کہا : اگر تو ہم پر غذا میں زیادتی کرتا ہے تو پھر تو ہم سے لے جا تو وہ زکوۃ لینے سے رک گیا حتیٰ کہ عمر (رض) سے ملاقات کی اور کہا : میرا خیال ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ میں نے ان پر غذا میں زیادتی کر کے ظلم کیا ہے اور میں ان سے نہیں لیتا تو عمر (رض) نے اسے کہا کہ تو ان کی غذا میں زیادتی کر، یہاں تک کہ وہ بکری کے بچے بھی ساتھ لائیں اور ان سے کہہ دو کہ میں تم سے سود نہیں لیتا اور نہ ہی میں کمزور اور دو دھ والی اور نہ ہی بوڑھی بکری اور نہ ہی بکریوں کا سانڈ لوں گا، بلکہ میں تو ان سے بکری کا بچہ جذعہ (سال سے کم عمرکا) وصول کروں اور دوندا (ثنیہ) وصول کروں گا یہ مال وغذا کے درمیان عدل اور اس کی عمدگی ہے۔