(۷۳۰۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُوأَحْمَدَ الْمِہْرَجَانِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْعَبْدِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَیْدٍ الدِّیلِیِّ عَنِ ابْنٍ لِعَبْدِ اللَّہِ بْنِ سُفْیَانَ الثَّقَفِیِّ عَنْ جَدِّہِ سُفْیَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بَعَثَہُ مُصَدِّقًا وَکَانَ یَعُدُّ عَلَی النَّاسِ بِالسَّخْلِ فَقَالُوا : أَتَعُدُّ عَلَیْنَا بِالسَّخْلِ وَلاَ تَأْخُذُ مِنْہُ شَیْئًا فَلَمَّا قَدِمَ عَلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ ذَکَرَ ذَلِکَ لَہُ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : نَعَمْ نَعُدُّ عَلَیْہِمْ بِالسَّخْلَۃِ یَحْمِلُہَا الرَّاعِی وَلاَ نَأْخُذُہَا وَلاَ نَأْخُذُ الأَکُولَۃَ وَلاَ الرُّبَی وَلاَ الْمَاخِضَ وَلاَ فَحْلَ الْغَنَمِ وَنَأْخُذُ الْجَذَعَۃِ وَالثَّنِیَّۃِ وَذَلِکَ عَدْلٌ بَیْنَ غِذَائِ الْمَالِ وَخِیَارِہِ۔ [صحیح۔ أخرجہ مالک]
(٧٣٠٢) سفیان بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ عمربن خطاب (رض) نے اسے عامل بنا کر بھیجا اور وہ ان کے ساتھ زیادتی کرتے تھے ان کے بچوں میں تو وہ کہنے لگے کہ تم ہمارے بکری کے بچے بھی شمار کرتے ہو ! مگر ان میں سے لیتے نہیں ہو ۔ جب وہ عمر بن خطاب کے پاس آئے تو اس بات کا تذکرہ کیا تو عمر بن خطاب نے فرمایا : ہاں ہم ان کے بچے شمار کریں گے اس کا چرواہا اسے اٹھائے گا مگر اسے نہیں لیں گے اور نہ ہی بوڑھی بکری اور نہ بچوں والی اور نہ ہی حاملہ اور نہ ہی بکریوں کا سانڈ لیں گے، بلکہ ہم جذعہ یا ثنیہ عمر کی بکریاں وصول کریں گے اور یہ مال وغذا میں برابری ہے۔