(۷۳۵۹) وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَی بْنِ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ سَعْدٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ : أَنَّ أَبَا بَکْرٍ وَعُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا لَمْ یَکُونَا یَأْخُذَانِ الصَّدَقَۃَ مَثْنَاۃً وَلَکِنْ یَبْعَثَانِ عَلَیْہَا فِی الْجَدْبِ وَالْخَصْبِ وَالسِّمَنِ وَالْعَجَفِ لأَنَّ أَخْذَہَا فِی کُلِّ عَامٍ مِنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- سُنَّۃٌ۔
وَرَوَاہُ فِی الْقَدِیمِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ وَزَادَ فِیہِ : وَلاَ یُضَمِّنُونَہَا أَہْلَہَا ، وَلاَ یُؤَخِّرُونَ أَخْذَہَا عَنْ کُلِّ عَامٍ۔
[صحیح۔ أخرجہ الشافعی]
(٧٣٥٩) ابن شہاب (رض) بیان کرتے ہیں کہ ابوبکر (رض) اور عمر (رض) اون وغیرہ کی زکوۃ نہیں لیا کرتے تھے لیکن وہ زکوۃ وصولی وصولی کے لیے عاملین کو بھیجتے خوشحالی و خشک سالی میں، آسودگی و بدحالی میں؛ کیونکہ پیارے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہر سال زکوۃ وصول کی۔ اس لیے یہ سنت ہے۔