(۷۳۶۷) أَخْبَرَنَا أَبُونَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُوعَلِیٍّ الرَّفَّائُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یُونُسَ الْکُدَیْمِیُّ حَدَّثَنَا وَہْبُ بْنُ جَرِیرٍ
(ح) وَأَخْبَرَنَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ مُحَمَّدٍ أَخْبَرَنَا وَہْبُ بْنُ جَرِیرٍ حَدَّثَنَا أَبِی قَالَ سَمِعْتُ الأَعْمَشَ یُحَدِّثُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ عَنْ أَبِی الْبَخْتَرِیِّ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَذَکَرَ قِصَّۃً فِی بَعْثِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ سَاعِیًا وَمَنْعِ الْعَبَّاسِ صَدَقَتَہُ وَأَنَّہَ ذَکَرَ لِلنَّبِیِّ -ﷺ- مَا صَنَعَ الْعَبَّاسُ فَقَالَ : ((أَمَا عَلِمْتَ یَا عُمَرُ أَنَّ عَمَّ الرَّجُلِ صِنْوُ أَبِیہِ۔ إِنَّا کُنَّا احْتَجْنَا فَاسْتَسْلَفْنَا الْعَبَّاسَ صَدَقَۃَ عَامَیْنِ))۔
لَفْظُ حَدِیثِ الْقَطَّانِ۔
وَفِی رِوَایَۃِ ابْنِ قَتَادَۃَ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- تَعَجَّلَ مِنَ الْعَبَّاسِ صَدَقَۃَ عَامٍ أَوْ صَدَقَۃَ عَامَیْنِ ، وَفِی ہَذَا إِرْسَالٌ بَیْنَ أَبِی الْبَخْتَرِیِّ وَعَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ۔
وَقَدْ وَرَدَ ہَذَا الْمَعْنَی فِی حَدِیثِ أَبِی ہُرَیْرَۃَ مِنْ وَجْہٍ ثَابِتٍ عَنْہُ۔ [حسن لغیرہٖ۔ أخرجہ الترمذی]
(٧٣٦٧) علی (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عمر (رض) کو عامل بنا کر بھیجا اور عباس (رض) نے زکوۃ نہ دی اور پھر عمر (رض) نے یہ بات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بتائی جو عباس (رض) نے کہی آپ نے فرمایا : اے عمر ! کیا تم جانتے نہیں کہ چچا باپ کی قسم ہوتا ہے ہم ضرورت محسوس کرتے تو عباس (رض) سے دو سال کی زکوۃ ادھار لے لیتے تھے۔
ایک حدیث میں ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عباس (رض) سے ایک یا دو سال کی زکوۃ پہلے وصول کرلی۔