(۷۴۶۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِی شُعَیْبٍ الْحَرَّانِیُّ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ أَعْیَنَ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحِارِثِ الْمِصْرِیِّ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ : جَائَ ہِلاَلٌ أَحَدُ بَنِی مُتْعَانَ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- بِعُشُورِ نَحْلٍ لَہُ وَسَأَلَہُ أَنْ یَحْمِیَ وَادِیًا یُقَالُ لَہُ سَلَبَۃُ فَحَمَی لَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- ذَلِکَ الْوَادِیَ فَلَمَّا تَوَلَّی عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہِ عَنْہُ کَتَبَ سُفْیَانُ بْنُ وَہْبٍ إِلَی عُمَرَ رَضِیَ اللَّہِ عَنْہُ یَسْأَلُہُ عَنْ ذَلِکَ۔ فَکَتَبَ عُمَرُ : إِنْ أَدَّی إِلَیْکَ مَا کَانَ یُؤَدِّی إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- مِنْ عُشُورِ نَحْلِہِ فَاحْمِ لَہُ سَلَبَۃَ وَإِلاَّ فَإِنَّمَا ہُوَ ذُبَابُ غَیْثٍ یَأْکُلُہُ مَنْ شَائَ ۔ [ضعیف۔ ابو داؤد]
(٧٤٦٠) عمروبن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ متعان کے بیٹوں میں سے ہلال رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس شہد کا عشر لے کر آیا اور عرض کیا : یہ وادی میرے حوالے کردی جائے جسے سلبۃ کہا جاتا ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے حوالے کردی۔ جب عمربن خطاب (رض) خلیفہ بنے تو سفیان بن وھب نے عمر (رض) کو خط لکھ کر پوچھا تو عمر (رض) نے لکھا کہ جو تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ادا کیا کرتا تھا ، وہ ادا کر دے، یعنی شہد کی زکوۃ اور سلبہ وادی اس کو الاٹ کردی اور فرمایا : وہ تو بارش کی مکھی ہے جہاں سے چاہتی ہے کھاتی ہے۔