(۷۴۶۲) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَغَیْرُہُ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا أَنَسُ بْنُ عِیَاضٍ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی ذُبَابٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِی ذُبَابٍ قَالَ : قَدِمْتُ عَلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَأَسْلَمْتُ ، ثُمَّ قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ اجْعَلْ لِقَوْمِی مَا أَسْلَمُوا عَلَیْہِ مِنْ أَمْوَالِہِمْ فَفَعَلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَاسْتَعْمَلَنِی عَلَیْہِمْ ، ثُمَّ اسْتَعْمَلَنِی أَبُو بَکْرٍ ، ثُمَّ عُمَرُ قَالَ وَکَانَ سَعْدٌ مِنْ أَہْلِ السَّرَاۃِ قَالَ فَکَلَّمْتُ قَوْمِی فِی الْعَسَلِ فَقُلْتُ لَہُمْ : زَکُّوہُ فَإِنَّہُ لاَ خَیْرَ فِی ثَمَرَۃٍ لاَ تُزَکَّی فَقَالُوا: کَمْ؟ قَالَ فَقُلْتُ: الْعُشْرُ فَأَخَذْتُ مِنْہُمُ الْعُشْرَ فَأَتَیْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَأَخْبَرْتُہُ بِمَا کَانَ قَالَ فَقَبَضَہُ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَبَاعَہُ ثُمَّ جَعَلَ ثَمَنَہُ فِی صَدَقَاتِ الْمُسْلِمِینَ۔[ضعیف۔ أخرجہ أحمد]
(٧٤٦٢) سعد بن ابی ذباب (رض) فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور اسلام قبول کرلیا، پھر میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! میری قوم کے جو لوگ اسلام لائے ان کے اموال کے بارے میں لکھ دیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لکھ دیا اور اسے اس پر عامل مقرر کردیا، پھر مجھے ابوبکر (رض) نے ۔ پھر عمر (رض) نے مجھے عامل مقرر کیا اور سعد (رض) سراۃ والوں میں سے تھے، فرماتے ہیں : وہ کہتے ہیں : میں نے اپنی قوم سے شہد کے متعلق بات کی اور میں نے ان سے کہا کہ اس میں زکوۃ ہے۔ بیشک ان پھلوں میں کوئی بھلائی نہیں جن کی زکوۃ ادا نہ کی جائے ۔ انھوں نے کہا : کتنی زکوۃ ہے ؟ تو میں نے کہا : دسواں حصہ ، پھر میں نے ان سے عشر وصول کیا اور میں عمربن خطاب (رض) کے پاس آیا اور اس بات سے آگاہ کیا تو عمر (رض) نے وہ لے لیا اور فروخت کردیا ، پھر اس کی قیمت مسلمانوں کے بیت المال میں جمع کردی۔