(۷۴۹۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ حَدَّثَنَا یَحْیَی حَدَّثَنَا ابْنُ ْمُبَارَکِ عَنْ یُونُسَ قَالَ : سَأَلْتُ الزُّہْرِیَّ عَنْ زَکَاۃِ الأَرْضِ الَّتِی عَلَیْہَا الْجِزْیَۃُ؟ فَقَالَ : لَمْ یَزِلِ الْمُسْلِمُونَ عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَبَعْدَہُ یُعَامِلُونَ عَلَی الأَرْضِ وَیَسْتَکْرُونَہَا وَیُؤَدُّونَ الزَّکَاۃَ مِمَّا خَرَجَ مِنْہَا فَنَرَی ہَذِہِ الأَرْضَ عَلَی نَحْوِ ذَلِکَ۔ وَالْکَلاَمُ فِی سَوَادِ الْعِرَاقِ مَوْضِعُہُ کِتَابُ الْجِزْیَۃِ۔ فَأَمَّا الْحَدِیثُ الَّذِی۔
[صحیح۔ ھذا اسناد صحیح الی الزہری]
(٧٤٩٨) یونس فرماتے ہیں کہ میں نے زہری سے اس زمین کی زکوۃ کے بارے میں جس پر ٹیکس ہی پوچھا تو انھوں نے فرمایا : مسلمان ہمیشہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور میں اور اس کے بعد بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے اور کرائے پر لیا کرتے تھے مگر زکوۃ بھی ادا کیا کرتے تھے ہم اس زمین کو بھی ویسے ہی تصور کرتے ہیں۔