hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 752

.

سنن البيهقي

752
Sunan Al Bayhaqi
(۷۵۳) وَرَوَاہُ شُعْبَۃُ کَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ مُجَاہِدٍ عَنْ رَجُلٍ یُقَالُ لَہُ الْحَکَمُ أَوْ أَبُو الْحَکَمِ مِنْ ثَقِیفَ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّہُ رَأَی رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- تَوَضَّأَ ثُمَّ أَخَذَ حَفْنَۃً مِنْ مَائٍ فَانْتَضَحَ بِہَا۔ (ت) وَکَذَلِکَ رَوَاہُ وُہَیْبٌ عَنْ مَنْصُورٍ وَرَوَاہُ أَبُو عَوَانَۃَ وَرَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ وَجَرِیرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِیدِ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ مُجَاہِدٍ عَنِ الْحَکَمِ أَوْ أَبِی الْحَکَمِ بْنِ سُفْیَانَ الْثَقَفِیِّ مُسْنَدًا إِلاَّ أَنَّہُمْ لَمْ یَذْکُرُوا أَبَاہُ۔ وَرَوَاہُ إِسْرَائِیلُ وَسَلاَّمُ بْنُ أَبِی مُطِیعٍ وَزَکَرِیَّا عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ مُجَاہِدٍ عَنِ الْحَکَمِ بْنِ سُفْیَانَ لَمْ یَشُکُّوا أَوْ لَمْ یَذْکُرُوا أَبَاہُ۔ قَالَ أَبُو عِیسَی سَأَلْتُ مُحَمَّدًا یَعْنِی ابْنَ إِسْمَاعِیلَ الْبُخَارِیَّ عَنْ ہَذَا الْحَدِیثِ فَقَالَ : الصَّحِیحُ مَا رَوَی شُعْبَۃُ وَوُہَیْبٌ وَقَالاَ عَنْ أَبِیہِ وَرُبَّمَا قَالَ ابْنُ عُیَیْنَۃَ فِی ہَذَا الْحَدِیثِ عَنْ أَبِیہِ۔ قَالَ الإِمَامُ أَحْمَدَ : رَوَاہُ ابْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ مَنْصُورٍ فَمَرَّۃً ذَکَرَ فِیہِ أَبَاہُ وَمَرَّۃً لَمْ یَذْکُرْہُ۔ [صحیح لغیرہٖ۔ أخرجہ النسائی ۱۳۴]
(٧٥٣) (الف) مجاہد (رح) بنو ثقیف کے ایک حکم یا ابو الحکم نامی شخص سے روایت کرتے ہیں جو اپنے والد سے نقل کرتا ہے کہ انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو وضو کرتے ہوئے دیکھا کہ آپ نے پانی کا ایک چلو لیا اور چھینٹے مارے۔
(ب) مجاہد حکم یا ابوالحکم بن سفیان ثقفی سے مسند کے ساتھ نقل فرماتے ہیں، لیکن یہاں انھوں نے ان کے والد کا ذکر نہیں کیا۔
(ج) مجاہد حکم بن سفیان سے نقل فرماتے ہیں کہ انھوں نے ان کے والد کا نام ذکر نہیں کیا۔
(د) امام ابو عیسیٰ (ترمذی) نے امام محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے متعلق پوچھا تو انھوں نی فرمایا : شعبہ اور وہیب عن أبیہ والی روایت صحیح ہے۔ ابن عیینہ بھی اس حدیث میں عن أبیہ بیان کرتے ہیں۔ امام احمد (رح) فرماتے ہیں : ابن عیینہ منصور سے نقل کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ انھوں نے اس میں ان کے والد کا ذکر کیا اور دوسری مرتبہ ذکر نہیں کیا۔