hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 7525

.

سنن البيهقي

7525
Sunan Al Bayhaqi
(۷۵۲۳) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ الرَّفَّائُ الْبَغْدَادِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو : عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی أُوَیْسٍ وَعِیسَی بْنُ مِینَائَ : قَالُونُ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِی الزِّنَادِ أَنَّ أَبَاہُ قَالَ : مَنْ أَدْرَکْتُ مِنْ فُقَہَائِنَا الَّذِینَ یُنْتَہَی إِلَی قَوْلِہِمْ مِنْہُمْ سَعِیدُ بْنُ الْمُسَیَّبِ وَعُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ وَالْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَخَارِجَۃُ بْنُ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ وَعُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُتْبَۃَ وَسُلَیْمَانُ بْنُ یَسَارٍ فِی مَشْیَخَۃٍ جِلَّۃٍ سِوَاہُمْ وَرُبَّمَا اخْتَلَفُوا فِی الشَّیْئِ فَأَخَذَنَا بِقَوْلِ أَکْثَرِہِمْ وَأَفْضَلِہِمْ رَأَیًا فَذَکَرَ أَحْکَامًا قَالَ وَکَانُوا یَقُولُونَ : لاَ صَدَقَۃَ فِی تَمْرٍ ، وَلاَ حَبٍّ حَتَّی یَبْلُغَ خَرْصُ التَّمْرِ أَوْ مَکِیلَۃُ الْحَبِّ خَمْسَۃَ أَوْسُقٍ بِصَاعِ النَّبِیِّ -ﷺ- وَکَانُوا لاَ یَرَوْنَ الزَّکَاۃَ فِی شَیْئٍ مِنَ الْفَوَاکِہِ إِلاَّ فِی الْعِنَبِ إِذَا بَلَغَ خَرْصُہُ خَمْسَۃَ أَوْسُقٍ بِصَاعِ النَّبِیِّ -ﷺ- وَکَانُوا یَرَوْنَ فِی کُلِّ نَیِّفٍ مِنَ الذَّہَبِ وَالْوَرِقِ وَالتَّمْرِ وَالْحَبِّ وَالْعِنَبِ صَدَقَۃٌ ، وَلَوْ زَادَ مُدًّا أَوْ أَکْثَرَ أَوْ أَقَلَّ وَلَمْ یَکُونُوا یَرَوْنَ فِی نَیِّفِ الْمَاشِیَۃِ صَدَقَۃٌ الإِبِلِ وَالْبَقَرِ وَالْغَنَمِ۔ وَرُوِّینَا عَنْ إِبْرَاہِیمَ النَّخَعِیِّ أَنَّہُ قَالَ : مَا زَادَ یَعْنِی عَلَی الْمَائَتَیْنِ فَبِالْحِسَابِ۔ [صحیح۔ أخرجہ الطحاوی]
(٧٥٢٣) ابو الحسن علی بن محمد فرماتے ہیں کہ بڑے بڑے مشائخ کا کہنا ہے کہ کھجور میں زکوۃ نہیں اور نہ ہی دانے میں ، یہاں تک کہ اس کا اندازہ لگایا جائے اور وہ اس دوران اتنا نہ ہوجائے جس قدر پانچ وسق ہوتے ہیں۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صاع کے ساتھ اور وہ خیال کرتے ہیں کہ سونے ‘ چاندی ‘ کھجور ‘ غلہ اور انگور وغیرہ میں نصاب کے مطابق زکوۃ ہے۔ اگرچہ ایک مد بھی زیادہ ہوجائے یا اس سے زیادہ یا کم اور وہ خیال کرتے ہو کہ چلنے والے جانوروں کی اونٹ ‘ گائے ‘ بکری کی زکوۃ نہیں۔
ابراہیم نخعی سے منقول ہے کہ جو دو سو سے زائد ہوں گے تو اسی حساب سے زکوۃ ہوگی۔