(۷۵۲۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِی الْمِنْہَالُ بْنُ الْجَرَّاحِ عَنْ حَبِیبِ بْنِ نَجِیحٍ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ نُسَیٍّ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- أَمَرَہُ حِینَ وَجَّہَہُ إِلَی الْیَمَنِ أَنْ لاَ یَأْخُذَ مِنَ الْکُسُورِ شَیْئًا إِذَا کَانَتِ الْوَرِقُ مِائَتَی دِرْہَمٍ أُخِذَ مِنْہَا خَمْسَۃَ دَرَاہِمَ ، وَلاَ یَأْخُذُ مِمَّا زَادَ شَیْئًا حَتَّی تَبْلُغَ أَرْبَعِینَ دِرْہَمًا فَیَأْخُذَ مِنْہَا دِرْہَمًا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ قَالَ قَالَ عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ عُقَیْبَ ہَذَا الْحَدِیثِ الْمِنْہَالُ بْنُ الْجَرَّاحِ مَتْرُوکُ الْحَدِیثِ وَہُوَ أَبُو الْعَطُوفِ وَاسْمُہُ الْجَرَّاحُ بْنُ الْمِنْہَالٍ وَکَانَ ابْنُ إِسْحَاقَ یَقْلِبُ اسْمَہُ إِذَا رَوَی عَنْہُ وَعُبَادَۃُ بْنُ نَسَیٍّ لَمْ یَسْمَعْ مِنْ مُعَاذٍ۔ قَالَ الشَّیْخُ : مِثْلُ ہَذَا لَوْ صَحَّ لَقُلْنَا بِہِ وَلَمْ نُخَالِفْہُ إِلاَّ أَنَّ إِسْنَادَہُ ضَعِیفٌ جِدًّا وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔[ضعیف جداً۔ دار قطنی]
(٧٥٢٤) معاذ بن جبل (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جب انھیں یمن کی طرف بھیجا تو حکم دیا : جب تک نصاب مکمل نہ ہو تو کم میں زکوۃ نہیں جب تک چاندی کے دو سو درہم نہ ہوجائیں، اگر اس سے زیادہ ہوجائیں تو بھی کچھ نہ لیا جائے جب تک وہ چالیس درہم نہ ہوجائیں تو پھر ان میں سے ایک درہم لیا جائے۔
شیخ نے بھی یہی فرمایا ہے کہ اگر بات صحیح ہوتی تو ہم بھی کہہ دیتے اور مخالفت نہ کرتے مگر اس کی سند بہت ضعیف ہے۔