(۷۵۳۲) فَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مِلْحَانَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ الْحَرَّانِیُّ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عَمْرٍو الرَّقِّیُّ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَبِی أُنَیْسَۃَ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَوْفٍ الشَّیْبَانِیِّ عَنْ عَلِیِّ بْنِ الْحُسَیْنِ قَالَ حَدَّثَتْنَا أُمُّ سَلَمَۃَ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- بَیْنَمَا ہُوَ فِی بَیْتِہَا وَعِنْدَہُ رِجَالٌ مِنْ أَصْحَابِہِ یَتَحَدَّثُونَ إِذْ جَائَ رَجُلٌ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- کَمْ صَدَقَۃُ کَذَا وَکَذَا مِنَ التَّمْرِ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((کَذَا وَکَذَا))۔ فَقَالَ الرَّجُلُ : إِنَّ فُلاَنًا تَعَدَّی عَلَیَّ فَأَخَذَ مِنِّی کَذَا وَکَذَا فَازْدَادَ صَاعًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((فَکَیْفَ إِذَا سَعَی عَلَیْکُمْ مَنْ یَتَعَدَّی عَلَیْکُمْ أَشَدَّ مِنْ ہَذَا التَّعَدِّی))۔ فَخَاضَ النَّاسُ وَبُہِرَ الْحَدِیثُ حَتَّی قَالَ رَجُلٌ مِنْہُمْ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنْ کَانَ رَجُلاً غَائِبًا عَنْکَ فِی إِبِلِہِ وَمَاشِیَتِہِ وَزَرْعِہِ فَأَدَّی زَکَاۃَ مَالِہِ فَتَعَدَّی عَلَیْہِ الْحَقَّ فَکَیْفَ یَصْنَعُ وَہُوَ غَائِبٌ عَنْکَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((مَنْ أَدَّی زَکَاۃَ مَالِہِ طِیِّبَ النَّفْسِ بِہَا یُرِیدُ بِہِ وَجْہَ اللَّہِ وَالدَّارَ الآخِرَۃَ لَمْ یُغَیِّبْ شَیْئًا مِنْ مَالِہِ وَأَقَامَ الصَّلاَۃَ فَتَعَدَّی عَلَیْہِ الْحَقَّ فَأَخَذَ سِلاَحَہُ فَقَاتَلَ فَقُتِلَ فَہُوَ شَہِیدٌ))۔ [ضعیف۔ أخرجہ احمد]
(٧٥٣٢) ام سلمہ (رض) فرماتی ہیں کہ ایک مرتبہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گھر میں تھے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس کچھ صحابہ بیٹھے باتیں کر رہے تھے، اچانک ایک آدمی آیا اور اس نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اتنی کھجوروں کی زکوۃ کتنی ہے ؟ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بتایا : ایسے ایسے ۔ پھر آدمی نے کہا : فلاں نے مجھ پر زیادتی کی ہے اور اتنی اتنی زکوۃ لی اور ایک صاع اضافی لیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ وقت کیسا ہوگا جب تم پر اس سے بھی زیادہ زیاتی کرنے والے ہوں گے تو لوگ اس بات میں گہر گئے اور بات بڑھ گئی یہاں تک کہ ایک آدمی نے پوچھا : اے اللہ کے رسول ! اگر کوئی آپ سے دور اپنے اونٹوں، جانوروں اور کھیتوں میں ہو اور وہ اپنے مال کی زکوۃ ادا کرتا رہے ، پھر اس کے حق میں اس پر زیادتی کی جاتی ہے تو وہ کیا کرے ، جب کہ وہ آپ سے دور ہے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے اپنے مال کی زکوۃ طیب نفس سے ادا کی اور وہ صرف اللہ کی رضا اور آخرت چاہتا ہے تو وہ اپنے مال میں سے کچھ غائب نہیں کرے گا اور وہ نماز قائم کرتا ہے، پھر اس پر زیادتی کی جاتی ہے تو وہ اپنے اسلحہ کو پکڑتا ہے پھر لڑائی کرتا ہے اور قتل کردیا جاتا ہے تو وہ شہید ہے۔