(۷۶۱۸) قَالَ وَحَدَّثَنَا یَحْیَی حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ النَّہْشَلِیُّ عَنْ حَمَّادِ بْنِ أَبِی سُلَیْمَانَ أَنَّہُ قَالَ : یُزَکِّی الرَّجُلُ مَالَہُ وَإِنْ کَانَ عَلَیْہِ مِنَ الدَّیْنِ مِثْلُہُ لأَنَّہُ یَأْکُلُ مِنْہُ وَیَنْکِحُ فِیہِ۔
قَالَ الشَّیْخُ : وَالظَّوَاہِرُ الَّتِی وَرَدَتْ بِإِیجَابِ الزَّکَاۃِ فِی الأَمْوَالِ تَشْہَدُ لِہَذَا الْقَوْلِ بِالصِّحَّۃِ وَہُوَ قَوْلُ الشَّافِعِیِّ فِی الْجَدِیدِ وَکَانَ یَقُولُ حَدِیثُ عُثْمَانَ یُشْبِہُ وَاللَّہُ أَعْلَمُ أَنْ یَکُونَ إِنَّمَا أَمَرَ بِقَضَائِ الدَّیْنِ قَبْلَ حُلُولِ الصَّدَقَۃِ فِی الْمَالِ وَقَوْلُہُ : ہَذَا شَہْرُ زَکَاتِکُمْ یَجُوزُ أَنْ یَقُولَ : ہَذَا الشَّہْرُ الَّذِی إِذَا مَضَی حَلَّتْ زَکَاتُکُمْ کَمَا یُقَالُ : شَہْرُ ذِی الْحِجَّۃِ وَإِنَّمَاالْحِجَّۃُ بَعْدَ مُضِیِّ أَیَّامٍ مِنْہُ أَخْبَرَنَا بِہَذَا الْکَلاَمِ أَبُو سَعِیدٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ قَالَ قَالَ الشَّافِعِیُّ فَذَکَرَہُ۔ [صحیح۔ رجالہ ثقات]
(٧٦١٨) حماد بن ابی سلیمان فرماتے ہیں کہ آدمی اپنے مال کی زکوۃ ادا کرے اگرچہ اس کے برابر اس پر قرض ہو ، کیونکہ وہ اسی سے کھاتا اور نکاح کرتا ہے۔
شیخ فرماتے ہیں : ا وہ ظاہری دلائل جو اموال کی زکوۃ کے وجوب میں آئے ہیں وہ اس قول کی صحت میں گواہی دیتے ہیں اور یہ امام شافعی کا نیا قول ہے اور عثمان کی حدیث اس کے مشابہ ہے اور انھوں نے مال میں زکوۃ کے وجوب سے پہلیقرضے کی ادائیگی کا حکم دیا، فرمایا : یہ تمہاری زکوۃ کا مہینہ ہے، جائز ہے کہ وہ فرماتے : جب یہ مہینہ گزر جائے گا تو زکوۃ حلال ہوجائے گی ، جس طرح کہا جاتا ہے ذوالحج کا مہینہ حالانکہ حج اس کے چند ایام گزرنے کے بعد ہوتا ہے اس کی خبر ہمیں ابو سعید نے دے۔