(۷۶۲۵) أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِم : عَبْدُ الْخَالِقِ بْنُ عَلِیٍّ الْمُؤَذِّنُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ خَنْبٍ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا أَیُّوبُ بْنُ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنِی أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی أُوَیْسٍ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ بِلاَلٍ عَنْ یُونُسَ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ حُمَیْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ : أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَبْدٍ الْقَارِیَّ وَکَانَ عَلَی بَیْتِ مَالِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : کَانَ النَّاسُ یَأْخُذُونَ مِنَ الدَّیْنِ الزَّکَاۃَ وَذَلِکَ أَنَّ النَّاسَ إِذَا خَرَجَتِ الأَعْطِیَۃُ حَبَسَ لَہُمُ الْعُرَفَائُ دُیُونَہُمْ وَمَا بَقِیَ فِی أَیْدِیِہِمْ أُخْرِجَتْ زَکَاتُہُمْ قَبْلَ أَنْ یَقْبِضُوا ، ثُمَّ دَاینَ النَّاسُ بَعْدَ ذَلِکَ دُیُونًا ہَالِکَۃً فَلَمْ یَکُونُوا یَقْبِضُونَ مِنَ الدَّیْنِ الصَّدَقَۃَ إِلاَّ مَا نَضَّ مِنْہُ ، وَلَکِنَّہُمْ کَانُوا إِذَا قَبَضُوا الدَّیْنِ أَخْرَجُوا عَنْہَا لَمَّا مَضَی مِنْہَا۔ [صحیح۔ رجالہ ثقات]
(٧٦٢٥) حمید بن عبد الرحمن فرماتے ہیں کہ عبد الرحمن بن عبد القاری عمر (رض) کے بیت المال پر نگران تھے ، فرماتے ہیں کہ لوگ قرض سے زکوۃ وصول کرتے تھے اور وہ ایسے کہ جب لوگ قرض سے زکوۃ وصول کرتے اور وہ ایسے کہ جب لوگ عطیہ دیتے تو ان کے قرض کو جاننے والے اسے روک لیتے اور جو ان کے پاس بچ رہتا اس کی زکوۃ قبضے میں آنے سے پہلینکال لی جائے، پھر لوگوں نے بڑے بڑے قرض لیے اور وہ زکوۃ نہیں دیتے تھے ، جب تک قرض قبضے میں نہ آئے لیکن جب قبضے میں آجاتا تو زکوۃ ادا کردیتے جو گزری ہوتی۔