(۷۶۲۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْعَدْلُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ أَیُّوبَ بْنِ أَبِی تَمِیمَۃَ السَّخْتِیَانِیِّ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِیزِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کَتَبَ فِی مَالٍ قَبَضَہُ بَعْضُ الْوُلاَۃِ ظُلْمًا یَأْمُرُ بِرَدِّہِ إِلَی أَہْلِہِ وَتُؤْخَذُ زَکَاتُہُ لِمَا مَضَی مِنَ السِّنِینَ ، ثُمَّ أَعْقَبَ بَعْدَ ذَلِکَ بِکِتَابٍ أَنْ لاَ تُؤْخَذَ مِنْہُ إِلاَّ زَکَاۃٌ وَاحِدَۃٌ فَإِنَّہُ کَانَ ضِمَارًا۔
قَالَ أَبُو عُبَیْدٍ یَعْنِی الْغَائِبَ الَّذِی لاَ یُرْجَی۔ [ضعیف۔ أخرجہ مالک]
(٧٦٢٦) ایوب بن ابی تمیمہ سختیانی فرماتے ہیں کہ عمر بن عبد العزیز نے اس مال کے متعلق لکھا جس پر بعض امراء نے قبضہ کر رکھا تھا کہ اسے اصل مالکوں کی طرف لوٹایا جائے اور جتنے سال گزر چکے ہیں ان سے اس کی زکوۃ وصول کی جائے۔ پھر اس کے بعد ایک اور تحریر بھیجی کہ اس میں سے صرف ایک ہی زکوۃ لی جائے کیونکہ وہ ضمار تھا اور اس سے مراد ایسا مال جس کے ملنے کی امید نہ ہو۔