(۷۶۵۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِہْرَجَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ : أَنَّہُ سَمِعَ بَعْضَ أَہْلِ الْعِلْمِ یَقُولُونَ فِی الرِّکَازِ : إِنَّمَا ہُوَ دِفْنُ الْجَاہِلِیَّۃِ مَا لَمْ یُطْلَبْ بِمَالٍ وَلَمْ یُکَلَّفْ فِیہِ کَبِیرُ عَمَلٍ فَأَمَّا مَا طُلِبَ بِمَالٍ أَوْ کُلِّفَ فِیہِ کَبِیرُ عَمَلٍ فَأُصِیبَ مَرَّۃً وَأُخْطِئَ مَرَّۃً فَلَیْسَ بِرِکَازٍ۔
(ت) وَرَوَی أَبُو دَاوُدَ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَیُّوبَ عَنْ عَبَّادِ بْنِ الْعَوَّامِ عَنْ ہِشَامٍ عَنِ الْحَسَنِ قَالَ : الرِّکَازُ الْکَنْزُ الْعَادِیُّ وَسَقَطَ ذَلِکَ مِنْ کِتَابِی۔ [صحیح۔ الموطاً]
(٧٦٥٠) ابن بکیر مالک سے نقل فرماتے ہیں کہ انھوں نے کچھ علماء کو یہ بات کرتے سنا کہ رکاز جاہلیت کا مدفون خزانہ ہے، جس سے مال طلب نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی اسے کسی بڑے عمل کا مکلف بنایا جاسکتا ہے۔ لیکن جس سے مال طلب کیا گیا یا بڑے عمل کا مکلف بنایا گیا تو ایک مرتبہ اسے حاصل ہوجاتا ہے اور ایک مرتبہ حاصل نہیں ہوتا اس لیے وہ خزانہ نہیں۔