(۷۶۵۴) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاکِ حَدَّثَنَا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ عَنْ سِمَاکٍ عَنْ جَرِیرِ بْنِ رَبَاحٍ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّہُمْ أَصَابُوا قَبْرًا بِالْمَدَائِنِ فَوَجَدُوا فِیہِ رَجُلاً عَلَیْہِ ثِیَابٌ مَنْسُوجَۃٌ بِالذَّہَبِ وَوَجَدُوا مَعَہُ مَالاً فَأَتَوْا بِہِ عَمَّارَ بْنَ یَاسِرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَکَتَبَ فِیہِ إِلَی عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَکَتَبَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِلَیْہِ : أَنْ أَعْطِہِمْ وَلاَ تَنْزِعْہُ۔
قَالَ الشَّیْخُ : وَہَذَا إِنْ وَجَدُوہَا فِی مَوَاتٍ مَلَکُوْہَا وَفِیہَا الْخُمُسُ وَکَأَنَّہَا لَمْ تَبْلُغْ نِصَابًا أَوْ فُوِّضَ ذَلِکَ إِلَیْہِمْ لِیُخَرِجُوہُ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔
(٧٦٥٤) جریر بن رباح اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ انھوں نے مدائن میں ایک قبریائی، اس میں ایک آدمی کو پایا جس پر ایسا لباس تھا جو سونے سے بنا ہوا تھا اور اس کے ساتھ اور مال بھی پایا ۔ وہ عمار بن یاسر (رض) کے پاس آئے تو انھوں نے عمر (رض) کی طرف خط لکھا ، پھر عمر (رض) نے انھیں لکھ بھیجا کہ وہ انھیں دے دیں ان سے نہ چھینیں۔
شیخ فرماتے ہیں : اگر وہ قبرستان مردہ سے ملے تو وہی اس کے مالک ہیں اور اس میں خمس ہے گویا کہ وہ نصاب کو نہیں پہنچایا پھر یہ انھیں کو سونپ دیا جائے تاکہ وہ اسے نکال لیں۔